1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں باغیوں کی پیش قدمی رُک گئی

لیبیا میں تنازعے کے سفارتی حل کی کوششوں میں تیزی کے بعد باغیوں کی پیش قدمی رک گئی ہے۔ یورپی یونین اور افریقی یونین کے تحت تنازعے کا سفارتی حل ڈھونڈا جارہا ہے۔

default

ہفتہ کی صبح لیبیا کے جنوبی شہر بریقہ میں کم از کم دس بڑے دھماکے سنے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مسلح باغی آئل ریفائنری والے اس شہر سے لوٹ رہے ہیں۔ لیبیا میں نو فلائی زون کے قیام کے باوجود باغیوں کے جھنڈے والے ایک ہیلی کاپٹر کو پرواز کرتے دیکھا گیا ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق قذافی کی حامی فورسز نے بریقہ پر مغربی سمت سے حملہ کردیا ہے۔ عرب ٹیلی وژن چینل الجزیرہ کی اطلاع کے مطابق سکیورٹی فورسز کے دستے بریقہ سے ہوتے ہوئے اجدابیہ میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ علاقہ باغیوں کے مرکز بن غازی سے محض 150 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ بریقہ سے باغیوں کی درجنوں گاڑیوں کو واپس آتے دیکھا گیا ہے۔ آئل ریفائنری کے سبب بریقہ خاصا اہم سٹریٹیجک شہر ہے۔

ریڈ کراس کا ایک جہاز باغیوں کے زیر کنٹرول بڑے شہر مصراتہ کے لیے طبی امدادی سامان لے کر پہنچ گیا ہے۔ یہ لیبیا کا تیسرا بڑا شہر ہے جسے اب ملکی سکیورٹی فورسز نے حصار میں لے رکھا ہے۔ شہر میں ادویات، خوراک و پانی کی شدید قلت ہے۔ باغیوں کے بقول آبادی کا بڑا حصہ چند محفوظ علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہے ۔

Flash-Galerie Libyen Italien Dänemark F-16 in Sigonella

نیٹو نے فضائی کارروائی میں باغیوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا ہے

دوسری جانب سفارتی محاذ پر یورپی اور افریقی یونین سرگرم ہوگئے ہیں۔ لیبیا کی حکومت اور اب باغیوں دونوں کی جانب سے نیٹو پر تنقید کے سبب اب اس کے کردار سے متعلق نئے سوالات نے جنم لیا ہے۔ مغربی طاقتوں نے اعتراف کیا ہے کہ محض فضائی کارروائی سے اس تنازعے کو حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یورپی یونین کے وزراء خارجہ اندرون خانہ اختلاف رائے کے باوجود اگلے ہفتے لیبیا کی ٹرانزیشنل نیشنل کونسل کے نمائندوں سے ملیں گے۔

یورپی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے منگل کو اس ملاقات کا دعوت نامہ جاری کیا ہے۔ دوسری جانب افریقی یونین کے رہنما بھی جلد لیبیا کا دورہ کرکے حکومت اور باغیوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ اس گروپ میں جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما بھی شریک ہوں گے۔

دریں اثنا آج لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن پر معمر قذافی کو ایک سکول کا دورہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ قذافی بظاہر خاصے پر اعتماد دکھائی دیئے۔ اس موقع پر طلباء مغرب مخالف نعرے لگاتے رہے۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت عصمت جبیں

DW.COM