1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں باغیوں کو اب بھی قذافی کی حامی فورسز کی مزاحمت کا سامنا

لیبیا میں پیر کو قذافی کی حامی فورسز نے ساحلی شہر راس لانوف کے نزدیک واقع ایک آئل ریفائنری پر حملہ کر کے 15 محافظوں کو ہلاک کر دیا۔ تاہم روئٹرز کے مطابق حملہ آوروں نے پلانٹ کو نقصان نہیں پہنچایا۔

default

ریفائنری کے ایک ملازم رمضان عبدالقادر نے بتایا کہ حملہ آور چودہ پندرہ ٹرکوں میں سوار ہو کر قذافی کے زیر اثر شہر سرت کی جانب سے آئے تھے۔ دارالحکومت طرابلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک واقع ایک اسلحہ ڈپو میں زوردار دھماکے کی آواز بھی سنی گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔ ڈپو کے ایک محافظ نے بتایا کہ دھماکہ گولہ بارود کے پھٹنے سے ہوا ہے۔

اس سے قبل باغیوں کی قومی عبوری کونسل نے بنی ولید شہر کی جانب سے سخت مزاحمت کے بعد نئے حملے کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ العربیہ ٹیلی وژن چینل کے مطابق بنی ولید میں قذافی کے حامیوں نے شہریوں کو ڈھال بنانے کے علاوہ گھروں کی چھتوں پر راکٹ لانچر بھی نصب کر رکھے ہیں۔ باغیوں کو پہلے حملے میں بھی قذافی کے حامیوں کی جانب سے انتہائی سخت مزاحمت کا سامنا تھا۔

Al-Saadi Gadhafi Gaddafi Libyen

نائجر نے معمر قذافی کے تیسرے بیٹے سعدی قذافی کے اپنے ملک میں پہنچنے کی تصدیق کر دی ہے

ایک اور پیشرفت میں نائجر نے معمر قذافی کے تیسرے بیٹے سعدی قذافی کے اپنے ملک میں پہنچنے کی تصدیق کر دی ہے۔ نائجر کے وزیر انصاف نے کہا ہے کہ قذافی کے بیٹے سعدی کو سرحد عبور کرنے والے ایک قافلے کے ساتھ پایا گیا، جو اغادیس کی جانب بڑھ رہا تھا۔ لیبیا کی قومی عبوری کونسل  نے معمر قذافی اور ان کے بیٹوں کی گرفتاری کو ترجیح بنا رکھا ہے اور این ٹی سی کے چیئرمین مصطفیٰ عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ معمر قذافی جب تک مفرور ہیں، خطرہ بنے رہیں گے۔ قذافی کی اکلوتی بیٹی عائشہ اور بیٹے محمد اور ہنیبال پہلے ہی الجزائر میں پناہ لے چکے ہیں۔ ان کے تین دیگر بیٹوں، معتصم، خمیس اور سیف الاسلام کے بارے میں ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے جبکہ ان کے ساتویں بیٹے سیف العرب کے

Libyen Übergangsrat Mustafa Abdel Dschalil

قومی عبوری کونسل نے معمر قذافی اور ان کے بیٹوں کی گرفتاری کو ترجیح بنا رکھا ہے

بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنگ کے دوران ہلاک ہو چکا ہے۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک لیبیا میں اپنی مہم جاری رکھے گا جب تک ملک میں معمر قذافی کی وفادار فورسز سے عام شہریوں کو لاحق خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔ لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن نے کہا، ’’اقوام متحدہ نے ہمیں شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا ہے۔‘‘ اقوام متحدہ کی طرف سے نیٹو کو دیا گیا اختیار 27 ستمبر کو ختم ہو رہا ہے اور راسموسن کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے ہونے والے ایک اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ آیا اس مدت میں اضافہ کیا جائے یا نہیں۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امجد علی

DW.COM