1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا میں الزاویہ شہر پر قذافی کی حامی فوج کا دوسرا حملہ بھی ناکام

لیبیا میں معمر قذافی کے حامی دستوں نے دارالحکومت طرابلس سے مغرب کی طرف پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع باغیوں کے زیر قبضہ شہر الزاویہ پر اتوار کو ایک نیا حملہ شروع کر دیا، جسے مسلح باغیوں نے ناکام بنا دیا۔

default

اس دوران حکومتی دستوں کو ایک بار پھر پسپائی پر مجبور کر دیا گیا۔ طرابلس سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق معمر قذافی کے حامی سرکاری دستوں کا الزاویہ پر کیا جانے والا یہ حملہ اسی شہر پر کل ہفتہ کے روز کیے جانے والے حملے سے کافی بڑا تھا۔

خبر ایجنسی روئٹرز نے الزاویہ میں باغیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ آج کے حملے کے دوران اس شہر میں اطراف کے مابین لڑائی ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ باغیوں کے ایک ترجمان نے ٹیلی فون پر روئٹرز کو بتایا کہ اس لڑائی میں سرکاری دستوں کو بھی کافی نقصان ہوا جبکہ کم ازکم دو حکومت مخالف باغی ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔

Libyen Bengasi Protest Gaddafi

بن غازی میں معمر قذافی کے خلاف احتجاج کرنے والی لیبیا کی خواتین

ادھر عرب ٹیلی وژن ادارے الجزیرہ نے بتایا ہے کہ مشرقی لیبیا میں ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر بن غازی میں معمر قذافی کے مخالف باغیوں نے کم ازکم چار برطانوی شہریوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

لندن سے موصولہ رپورٹوں میں برطانوی وزیر دفاع فوکس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت برطانوی سفارتکاروں کی ایک ٹیم لیبیا کے شہر بن غازی میں ہے تاہم وزیر دفاع نے ان رپورٹوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ بن غازی میں باغیوں نے برطانیہ کی سپیشل فورسز کے ایک یونٹ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

قاہرہ سے آمدہ رپورٹوں کے مطابق تیل کی صنعت کے لیے مشہور لیبیا کے شہر راس لانوف میں بھی باغیوں اور حکومتی دستوں کے درمیان لڑائی جاری ہے، جس میں آج ایک فرانسیسی صحافی زخمی ہو گیا۔

Libyen Demonstration gegen Muammar Gaddafi in Bengasi Patronengürtel

بن غازی میں حکومتی دستوں کے خلاف سرگرم اپوزیشن کا ایک باغی کارکن

راس لانوف ہی میں، جو ایک اہم بندرگاہی شہر ہے، باغیوں نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے قذافی کی حامی فوجوں کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔ چند باغی رہنماؤں کے بقول انہوں نے یہ سرکاری ہیلی کاپٹر خود سمندر میں گرتے ہوئے دیکھا۔

دوسری طرف یونانی دارالحکومت ایتھنز سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا میں بدامنی کی وجہ سے وہاں سے رخصت ہونے والے ہزاروں غیر ملکیوں میں سے، کم ازکم تین بنگلہ دیشی شہری یونان کی سمندی حدود میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ تینوں بنگلہ دیشی شہری بندرگاہ میں کھڑے ایک امدادی بحری جہاز سے چھلانگ لگانے کے بعد تیر کر یونانی جزیرے کریٹا کے ساحل تک پہنچنا چاہتے تھے کہ پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

یونانی حکام کے مطابق اس واقعے میں جزیرے کریٹا کے ساحلی پانیوں میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے تین بنگلہ دیشی شہریوں کے علاوہ کم ازکم سولہ دیگر افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس