1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا: مخالف دھڑوں کے ’متحدہ قومی حکومت معاہدے‘ پر دستخط

لیبیا میں معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد ایک دوسرے کی مخالفت میں لڑنے والے گروپوں کے نمائندوں نے ایک متحدہ قومی حکومت کے قیام کے ایک ’متنازعہ معاہدے‘ پر دستخط کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس امن کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں ایک عرصے سے لیبیا کے متحارب گروپوں پر دباؤ ڈالے ہوئی تھیں کہ وہ جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچیں کیونکہ سن 2011ء میں معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے یہ ملک مکمل خانہ جنگی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ نہ صرف جہادی بلکہ انسانی اسمگلر بھی اس ملک میں اپنے ٹھکانے مضبوط تر بناتے جا رہے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ معاہدہ مراکش کے سیاحتی مقام الصخیرات میں طے پایا ہے اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے کے لیے لیبیا کی دونوں حریف پارلیمانوں کے قانون سازوں کے علاوہ ملک کی مشہور سیاسی شخصیات بھی وہاں موجود تھیں۔

دوسری جانب اس معاہدے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حریف گروپوں کے مابین اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن کوبلر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ بحران کے خاتمے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا ضروری ہے، ’’یہ لیبیا کے لیے ایک طویل سفر ہے اور ابھی صرف آغاز ہوا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط لیبیا کو دوبارہ صحیح سمت کی طرف واپس لانے کے لیے پہلا قدم ہیں۔‘‘

ان کا اس بارے میں مزید کہنا تھا، ’’ہمارے دروازے ان کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، جو آج یہاں موجود نہیں ہیں۔ اب نئی حکومت کو فوری طور پر ان کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں، جو خود کو محروم تصور کرتے ہیں۔‘‘

دوسری جانب گزشتہ روز دارالحکومت طرابلس کو کنٹرول کرنے والے گروپ جنرل نیشنل کانگریس (جی این سی)، جسے بین الاقوامی قوتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے، کے سربراہ نوری ابو سھمین نے کہا تھا کہ دستخط کرنے والے پارلیمان کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی معاہدہ کرنے کا مجاز وہی شخص ہوگا، جسے جی این سی کی طرف سے ایسا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

قبل ازیں منگل کے روز نوری ابو سھمین نے مالٹا میں اپنی حریف پارلیمان کے سربراہ عقیلہ صالح سے ملاقات کی تھی، جو ان دونوں رہنماؤں کے مابین پہلی ملاقات تھی۔ ان دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دستخط کرنے والے ان کی نمائندگی نہیں کرتے۔ قبل ازیں اکتوبر میں بھی دونوں پارلیمانوں کے نمائندوں نے ایک معاہدے کے ڈرافٹ پر اتفاق کیا تھا، جسے بعد ازاں دونوں پارلیمانوں نے مسترد کر دیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب اگلا قدم دونوں پارلیمانوں کے رہنماؤں کو اس معاہدے پر متفق کرنا ہوگا۔

اس سلسلے میں آج ہی اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب نے مغربی قوتوں کی حمایت یافتہ پارلیمان کے متنازعہ آرمی چیف جنرل حفتر سے بھی ملاقات کی ہے۔ جنرل حفتر نے کہا ہے کہ وہ بھی اس معاہدے سے مطمئن نہیں ہیں لیکن وہ اس کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ طرابلس کو کنٹرول کرنے والے گروپ کے زیادہ تر اراکین جنرل حفتر کی مخالفت کرتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق اگر دونوں پارلیمانی ادارے دس دن کے اندر اندر کوئی متفقہ اور نیا آرمی چیف لانے میں ناکام رہے تو ایک نیا آرمی چیف مقرر کر دیا جائے گا۔