1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا: قیام امن کے لیے ایک مرتبہ پھر مذاکرات

اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ لیبیا کے متحارب دھڑوں کے مابین آئندہ ہفتے مذاکرات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے گا، جس کا مقصد شورش زدہ اس شمالی افریقی ملک میں متحدہ حکومت کا قیام اور جاری لڑائی کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے لیبیا میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں لیبیاکے مختلف گروہوں کے مابین مذاکرات کے ایک نئے دور کی میزبانی کا منصوبہ بنایا ہے۔ عالمی ادارے کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے اس مذاکراتی عمل کا مقصد لیبیا کے بحران کا خاتمہ اور وہاں ایک متحدہ حکومت تشکیل دینا ہے۔ مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ کا منصوبہ ہی بہترین راستہ ہے۔

لیبیا میں دو متوازی حکومتیں کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہاں سلامتی کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ سلامتی کے اس انخلاء کا فائدہ نہ صرف انسانی اسمگلر اٹھا رہے ہیں بلکہ وہاں شدت پسند تنظیم داعش بھی جڑیں پکڑتی جا رہی ہے۔ لیبیا میں معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی بحران اب شدید تر ہو چکا ہے، جس کا فائدہ وہاں کے قبائلی سرداروں اور ان متعدد قذافی مخالف مسلح دھڑوں نے اٹھایا، جن کو مغربی طاقتوں کی پہلے حمایت حاصل رہی تھی۔

گزشتہ کئی ماہ سے لیبیا میں ایک دوسرے کی مخالف اور متوازی حکومتوں کے مابین مذاکرات کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن فریقین کے سخت موقف کی وجہ سے مذاکرات جمود کا شکار ہو چکے ہیں۔ لیبیا کی ایک حکومت کو مغربی دنیا تسلیم کرتی ہے اور مغرب کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف اسلام کے نفاذ کے لیے کام کرنے والی شوریٰ کونسل برسر پیکار ہے۔ لیبیا کا ملیشیا گروہ ’فجر لیبیا‘ بھی اس کونسل کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور اس کونسل نے گزشتہ برس دارالحکومت طرابلس کا کنٹرول بھی سنبھال لیا تھا۔

آج کے اعلان سے پہلے مذاکرات مراکش میں جاری تھے، جہاں رواں ہفتے طرابلس پر قابض اسلام پسند حکومت کے وفد نے اس وقت مزید مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا، جب ان کے وفد کے ایک اہم رکن نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ تب اس وفد کا کہنا تھا کہ اب نئی ٹیم تشکیل دی جائے گی، جو مذ‌اکرات کرے گی۔ تاہم طرابلس حکومت نے اب تصدیق کی ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ہونے والے جنیوا مذاکرات میں شریک ہو گی۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

لیبیا میں گزشتہ ایک سال کے دوران اس لڑائی میں کم از کم تین ہزار سات سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیبیا باڈی اکاؤنٹ ویب سائٹ کے مطابق اس لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد وہاں سے نقل مکانی بھی کر چکے ہیں جبکہ زیادہ تر ہلاکتیں مصراتہ شہر میں ہوئیں۔

لیبیا کے مرکزی بینک کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ لڑائی کی وجہ سے ملکی معیشت ’تباہ‘ ہو چکی ہے۔ خام تیل کی یومیہ پیداوار پانچ لاکھ بیرل ہے جبکہ گزشتہ برس کے آغاز پر یومیہ پیداوار سولہ لاکھ بیرل تھی۔ دوسری جانب لیبیا کو بیرونی ممالک کا قرض واپس کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ انسداد بدعنوانی واچ ڈاگ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سن دو ہزار چودہ کی رپورٹ کے مطابق لیبیا بدعنوان ملکوں کی فہرست میں دسویں نمبر پر آ چکا ہے۔