1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا : عالمی فوج کی کارروائی جاری، قذافی مزاحمت پر قائم

اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار ایڈمرل مائیکل مولن نے کہا ہے کہ امریکی اور اتحادی ممالک نے لیبیا میں مؤثر نو فلائی زون قائم کردیا ہے اور اب معمر قذافی کی فوجیں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں عسکری کارروائی نہیں کرسکتیں۔

default

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین مؤلن نے کہا ہے کہ قذافی کی افواج کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران اتحادی افواج، اقوام متحدہ کی طرف سے ملنے والے مینڈیٹ کا خصوصی خیال رکھ رہی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی کارروائی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب قذافی کی فوجیں بن غازی یا مصراتہ میں کھلے عام حملے نہیں کر سکتی ہیں۔

دریں اثناء امریکی اور یورپی ممالک کی طرف سے قذافی کی افواج کے خلاف فوجی آپریشن میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ برطانوی اور فرانسیسی جنگی طیارے جہاں لیبیا کی فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری طرف بحیرہ روم میں موجود امریکی جنگی بحری بیڑہ میزائل داغ رہا ہے۔

Libya.jpg

معمر قذافی نے کہا ہے کہ وہ مغربی طاقتوں کو شکست سے دوچار کریں گے

برطانوی وزرات دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ان کے جنگی طیاروں نے طرابلس میں واقع قذافی کے فضائی دفاعی نظام پر میزائل داغے ہیں۔ اسی طرح فرانسیسی حکام نے بھی کہا ہے کہ ان کے جنگی طیارے اتوار کو بھی قذافی کی افواج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سن 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد عرب ممالک میں عالمی برداری کے سب سے بڑے فضائی حملے میں اب تک اڑتالیس شہری ہلاک جبکہ 150 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم لیبیا کے سرکاری ٹیلی وژن کی طرف سے جاری کیے گئے ان اعدادوشمار کی آزادانہ طور پرتصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اجازت ملنے پرعالمی برداری نے لیبیا کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کا ذمہ اٹھاتے ہوئے ہفتے کے دن قذافی کی فورسز کے خلاف عسکری آپریشن شروع کیا تھا۔ دوسری طرف آج اتوار کو معمر قذافی نے اپنے ایک نشریاتی خطاب میں کہا ہے کہ لیبیا کے عوام مغربی طاقتوں کی جارحیت کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کیے گئے اپنے آڈیو خطاب میں معمر قذافی نے کہا کہ انہوں نے عوام میں اسلحہ تقسیم کر دیا ہے اور وہ ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتوں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے کہا ہے کہ اتوارکی صبح قذافی کی فورسز نے مصراتہ اور بن غازی میں تازہ حملے کئے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مطالبہ کیا ہے کہ قذافی اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ روک دیں،’ وہ اپنے ہی لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ مخالفین کوڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کریں گے، جوناقابل قبول ہے‘۔

NO FLASH Angriffe auf Libyen haben begonnen

عالمی برداری لیبیا میں قذافی کی فوجی ٹھکانوں کا نشانہ بنا رہی ہے

دوسری طرف بھارت، روس اور چین نے لیبیا میں عالمی برداری کی طرف سے فوجی مداخلت پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM