1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا سے نکلنے والے پناہ گزینوں کو خوراک کی فراہمی

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ لیبیا سے نقل مکانی کرنے والوں کو خوراک کی فراہمی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس عالمی ادارے نے لیبیا میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تیز تر اضافے پر تشویش بھی ظاہر کی ہے۔

default

پناہ گزینوں کے لیے لیبیا اور تیونس کی سرحد پر قائم ایک کیمپ

اٹلی کے دارالحکومت روم میں قائم اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے منگل کو ایک بیان میں کہا، ’لیبیا کی سرحدیں عبور کرنے والے بھوکے پیاسے افراد کو خوراک فراہم کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا، ’ابھی تک ورلڈ فورڈ پروگرام نے لیبیا کے مشرقی علاقوں میں ڈیڑھ ہزار ٹن خوراک پہنچائی ہے۔ ہنگامی حالات کے تناظر میں مزید چھ ہزار ٹن خوراک فوری طور پر دستیاب ہے۔‘

اقوام متحدہ کی یہ ایجنسی لیبیا سے فرار ہونے والوں کو گرم کھانے بھی مہیا کر رہی ہے۔ چار ہزار افراد کو تیونس کے ہوائی اڈے Djerba پر جبکہ پچیس ہزار افراد کو تیونس ہی میں پناہ گزینوں کے لیے قائم ایک کیمپ میں کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایف پی نے یہ بھی کہا ہے کہ لیبیا میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تیز تر اضافے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں، جو تشویشناک ہیں۔ اس ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالیہ کچھ دِنوں میں وہاں آٹے کی قیمت دگنی ہو چکی ہے، چاول کی قیمت میں اٹھاسی فیصد، کھانے کی تیل کی قیمت میں اٹھاون فیصد جبکہ روٹی کی قیمت میں ایک سو دس فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

World Food Programme Logo

پناہ گزینوں کو گرم کھانے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق زاویہ، مصراتہ اور سرت سمیت بعض علاقوں میں پچانوے فیصد دکانیں بند پڑی ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کا کہنا ہے کہ خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات کے تناظر میں نقل پذیر ویئر ہاؤس لیبیا کے سرحدی علاقوں میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈبلیو ایف پی نے لیبیا، مصر اور تیونس میں بحران سے متاثرہ افراد کو خوراک کی فراہمی کے لیے انتالیس ملین ڈالر سے زائد کا ہنگامی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔

ان اور بعض دیگر عرب ممالک میں حکمرانوں کے طویل اقتدار کے خلاف اور سیاسی اصلاحات کے لیے مظاہروں کا سلسلہ تیونس سے شروع ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں تیونس اور مصر میں حکومتیں پہلے ہی گر چکی ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس