1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا سے لوٹنے والے بھارتی باشندوں کے تاثرات

بھارتی حکومت نے شورش زدہ شمالی افریقی ریاست لیبیا سے اپنے تین ہزار سے زائد شہریوں کو نکال لیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب بھی ہزاروں بھارتی شہری وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

default

لیبیا کی حکومت نے بھارتی قومی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کو دن میں تین بار دارالحکومت طرابلس میں لینڈنگ کی اجازت دے دی ہے۔ نئی دہلی نے لیبیا کے بعض دیگر شہروں سے بھی فضائی سروس شروع کرنے کی درخواست دے رکھی ہے۔

بھارت پہنچنے والوں میں سے 1188 شہریوں نے لیبیا کے مشرقی بندرگاہی شہر بن غازی سے ایک مسافر بحری جہاز کے ذریعے اپنی واپسی کا سفر شروع کیا تھا۔ لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے خلاف بغاوت کا آغاز اسی شہر سے ہوا تھا، جو اب حکومت مخالف قوتوں کے کنٹرول میں ہے۔

Indien Politik Krishna Rao

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اور سیکریٹری خارجہ نروپما راؤ

نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آج بدھ کو ’سکوٹیا پرنس‘ نامی بحری جہاز مزید بھارتی باشندوں کو لے کر مصر کے بندرگاہی شہر اسکندریہ پہنچے گا۔ بھارتی حکام کے مطابق اس جہاز پر 175 بھارتی نرسوں سمیت متعدد ایسے شہری سوار ہیں، جو روزگار کے سلسلے میں لیبیا میں مقیم تھے۔

بھارتی سیکریٹری خارجہ نروپما راؤ نے لیبیا میں پھنسے ہوئے افراد کے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ حکومت انہیں وہاں سے نکالنے کی ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔

راؤ کے بقول لیبیا میں رہائش پذیر لگ بھگ 18 ہزار بھارتی شہریوں میں سے 20 فیصد یعنی قریب 3600 واپس لوٹ چکے ہیں۔ لیبیا میں وسیع پیمانے پر خانہ جنگی کے خدشات کے سبب وہاں مقیم غیر ملکی باشندوں کی سلامتی سے متعلق تحفظات بہت بڑھ گئے ہیں۔

بھارت کی سرکاری فضائی کمپنی ایئر انڈیا کی ایک پرواز کے ذریعے لیبیا سے وطن لوٹنے والے محمد صالح نامی ایک بھارتی شہری نے بتایا کہ وہاں سے جان بچاکر گھر لوٹنا ’جنت پا لینے کے مترادف‘ ہے۔ محمد صالح ان 1134 بھارتی شہریوں میں سے ایک ہیں جنہیں طرابلس سے ایئر انڈیا کی پروازوں کے ذریعے بھارت منتقل کیا گیا۔

Air India Boeing 747-400 Flash-Galerie

ایئر انڈیا کو لیبیا سے دن میں تین پروازیں بھرنے کی اجازت دے دی گئی ہے

لیبیا چھوڑنے والے بھارتی شہریوں کے مطابق وہاں بدامنی کے ساتھ ساتھ لوٹ مار بھی عام ہو چکی ہے اور قانون نام کی کسی چیز کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیتا۔ ایک نیپالی شہری چندرا بہادر کے بقول وہ مشرقی لیبیا میں ایک کوریائی تعمیراتی کمپنی کے لیے کام کرتے تھے۔ ’’ہم درجنوں مزدور جس کیمپ میں رہائش پذیر تھے، اسے نذرآتش کر دیا گیا، جس کے سبب ہم ایک قریبی مسجد میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے، جہاں مقامی افراد ہمیں کھانا دیتے رہے۔‘‘

ان کے بقول مسلح افراد نے اس کوریائی کمپنی کی 250 گاڑیاں، ملازمین کے لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، بٹوے، موبائل فون حتیٰ کہ کپڑے تک بھی چرا لیے۔ چندرا بہادر کے بقول وہ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں دیگر افراد ایک ہفتے تک مسجد میں پناہ لیے ہوئے تھے، جس کے بعد انہیں مصر منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM