1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لیبیا: تین ہزار سے زائد غیر قانونی مہاجرین گرفتار کر لیے گئے

لیبیا میں سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ حکومت کی اتحادی فورسز نے انسانی اسمگلنگ کے گڑھ صبراتہ میں تین ہزار سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا ہے۔

لیبیا کی متحدہ حکومت کی اتحادی فورس کے کمانڈر باسم غربلی نے بتایا،’’ہم نے عرب، ایشیا اور افریقہ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تین ہزار ایک سو پچاس تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔‘‘

باسم کی فورس نے جمعے کے روز بتایا تھا کہ اُس نے تین ہفتے کی مسلسل لڑائی کے بعد ایک حریف ملیشیا کو شہر سے باہر دھکیل دیا ہے۔ اس ملیشیا کی قیادت انسانی اسمگلنگ کے ایک سابقہ نیٹ ورک کا سربراہ کر رہا تھا۔

 لیبیا کی متحدہ حکومت کے وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق فورسز اور ملیشیا کے مابین جھڑپوں میں انتالیس افراد ہلاک جبکہ 300 زخمی ہوئے ہیں۔

اس لڑائی میں صبراتہ کے اسکولوں اور ہسپتالوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ علاوہ ازیں یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے آثار قدیمہ بھی محفوظ نہیں رہے۔

Libyen Tripolis Flüchtlingslager Sika road (DW/Maryline Dumas)

لیبیا کی مختلف ساحلی پٹیاں اس وقت انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں

سن 2011 میں لیبیا میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے حمایت یافتہ انقلاب میں طویل عرصے تک مسند اقتدار پر رہنے والے آمر معمر قذافی کی معزولی اور پھر ہلاکت کے بعد یہ شہر چھپے ہوئے غیر قانونی مہاجرین کا مرکز بن گیا، جو یورپ جانے کے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

بعض مقامی انسانی اسمگلرز نے سکیورٹی کی ناگفتہ بہ صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہر کے پورے پورے حصوں کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے جہاں سے وہ روزانہ درجنوں مہاجرین کو کشتیوں پر بٹھا کر یورپ کے سمندری سفر پر روانہ کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ لیبیا کی مختلف ساحلی پٹیاں اس وقت انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ غیر معروف اور انتہائی کم استعمال ہونے والے ساحلی مقامات سے انسانی اسمگلر  تارکین وطن کو کمزور اور پلاسٹک کی کشتیوں پر سوار کر کے اٹلی، یونان اور اسپین کے ساحلی مقامات اور جزائر تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

DW.COM