1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا: تین روز میں 84 افراد ہلاک ہوئے، ہیومن رائٹس واچ

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے ایک تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ لیبیا میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گزشتہ تین روز میں مجموعی طور پر 84 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

default

ہفتے کے روز سامنے آنے والے اس بیان میں مقامی ہسپتالوں اور عینی شاہدین کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لیبیا میں جاری پرتشدد مظاہروں میں ہلاک شدگان کی تعداد 46 بتائی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ہسپتال ذرائع اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صرف جمعے کے روز مشرقی شہر بن غازی میں 35 افراد کو ہلاک کیا۔ لیبیا پر گزشتہ چار عشروں سے حکومت کرنے والے معمر قدافی کے خلاف اس انداز سے پہلی مرتبہ عوامی احتجاج دیکھا جا رہا ہے۔

اس سے قبل تیونس اور مصر میں عوامی مظاہروں کے بعد، طویل عرصے سے حکومت کرنے والے زین العابدین بن علی اور حسنی مبارک جیسے مضبوط صدور کو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے، جس کے بعد مظاہروں کا یہ سلسلہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بھی پھیل چکا ہے۔

Libyen Muammar Gaddafi Moammar Gadhafi

معمر قذافی

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق جمعے کے روز سکیورٹی فورسز نے مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات میں شریک افراد پر براہ راست فائرنگ کی۔ یہ افراد حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی کر رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کا یہ واقعہ دارالحکومت طرابلس سے ایک ہزار کلومیٹر دور واقع شہر بن غازی میں پیش آیا۔ ہلاک شدگان کی تعداد کے حوالے سے فی الحال حکومت کی طرف سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم ہیومن رائٹس واچ نے بن غازی شہر کے محکمہ صحت کے ایک سینیئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث تمام ڈاکٹروں کو مختلف ہسپتالوں میں طلب کر لیا گیا ہے، جبکہ عوام سے خون کے عطیات کے لیے اپیل کی گئی ہے۔

بن غازی کے ایک رہائشی نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں کہا کہ قذافی کی حامی سکیورٹی فورسز شہر کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کی بھرپور تگ و دو کر رہی ہیں جبکہ ’عوام ہر سڑک پر ان سے لڑ‘ رہے ہیں۔

دریں اثناء مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق بن غازی شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی منقطع کر دی گئی ہے جبکہ اہم سرکاری عمارتوں کے باہر ٹینکوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM