1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا: تیل سے مالا مال شہر میں خونریزی

لیبیا میں معمر قذافی کی فورسز کے خلاف نبرد آزما باغیوں نے کہا ہے کہ تیل سے مالا مال مشرقی شہر بریقہ میں انہیں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ قذافی کی فوج کے ساتھ تازہ ترین جھڑپوں میں کم از کم چار باغی مارے گئے ہیں۔

default

لیبیا میں حالات ہنوز کشیدہ

اُدھر مغربی علاقے کے شہر زاویہ میں گزشتہ روز وہاں جاری لڑائی کے دوسرے دن بھی باغیوں اور سرکاری دستوں کے مابین جھڑپیں جاری رہیں۔ باغیوں کے مطابق وہ ’قذافی کے خلاف بغاوت کی آگ‘ کو رفتہ رفتہ دارالحکومت طرابلس تک پھیلا رہے ہیں۔ تاہم بریقہ اور اجدابیہ کے درمیانی علاقے میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے مابین خونی جھڑپوں میں کم از کم چار باغیوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ باغیوں کا گڑھ سمجھے جانے والے شہر بن غازی کے مرکزی ہسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق کم از 65 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قذافی کی فورسز پر پہلے حملہ کیا تھا۔ اُس کے رد عمل میں حکومتی فوج نے انہیں بریقہ سے مار نکال۔ باغیوں نے اس علاقے کو واپس اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی تاہم قذافی کے دستوں کی کارروائی اتنی بھرپور تھی کہ باغی بریقہ کا علاقہ دوبارہ اپنے قبضے میں نہ لے سکے۔

لیبیا کے شہر نا لوت میں زیر علاج ایک بچہ

ایک باغی نے، جو ان جھڑپوں میں زخمی ہونے والوں کے ساتھ بن غازی لوٹا تھا، ایک بیان دیتے ہوئے کہا، ’نیٹو فورسز فضا سے ہمارا تحفظ کر رہی تھیں تاہم قذافی کی فوج نے ہم پر راکٹوں اور مارٹر گولوں کی بارش کی‘۔ ان حملوں میں زخمی ہونے والے 24 سالہ اکرام کا کہنا تھا، ’ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم طرابلس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں‘۔

طرابلس سے مغرب کی جانب واقع شہر زاویہ میں ایک بڑی آئل ریفائنری قائم ہے۔ اس جگہ ہونے والی تازہ جھڑپوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ باغی قذافی کی مضبوط گرفت والے اس علاقے تک پہنچ گئے ہیں۔

گزشتہ ہفتہ کے روز لیبیا میں حکومتی ترجمان موسٰی ابراہیم نے کہا تھا کہ طرابلس کے نزدیک الزاویہ میں اب کوئی تصادم دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پھر اتوار کو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ شہر کے مغربی علاقے میں 100 کے قریب باغیوں نے حملہ کیا تھا، جنہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت باغیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس