1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا تنازعے کے حل کے لیے استنبول میں اہم اجلاس

’لیبیا کانٹیکٹ گروپ‘ کے اس چوتھے اجلاس میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ سمیت 40 ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہیں۔

ہلیری کلنٹن اور فرانکو فراتینی

ہلیری کلنٹن اور فرانکو فراتینی

لیبیا کے مسئلے کے حل پر غور کے لیے اہم علاقائی اور مغربی ممالک کے حکام استنبول میں ملاقات کر رہے ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن، برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ، ان کے فرانسیسی ہم منصب آلاں یوپے اور اطالوی وزیر خارجہ فرانکو فراتینی بھی اس ملاقات میں شریک ہیں۔

امید کی جارہی ہے کہ ایجنڈا پر سرفہرست قذافی کے پرامن طور پر اقتدار چھوڑنے کا معاملہ ہوگا۔ فرانس نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ فروری سے جاری لیبیا کے تنازعے کا سیاسی حل نکالا جا سکتا ہے۔

ادھر بن غازی میں لیبیا کے باغیوں کی ’قومی عبوری کونسل‘ نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی سیاسی حل کی صورت میں قذافی کو اقتدار سے ہٹایا جانا ضروری ہے۔

لیبیا کانٹیکٹ گروپ کی گزشتہ میٹنگ مئی کے آغاز میں روم میں ہوئی تھی

لیبیا کانٹیکٹ گروپ کی گزشتہ میٹنگ مئی کے آغاز میں روم میں ہوئی تھی

استبول میں ہونے والی اس ملاقات میں لیبیا کے باغیوں کے لیے اعلان کردہ امداد کی تقسیم کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ امداد کے یہ اعلانات رواں میٹنگ سے قبل ہونے والی ملاقاتوں میں کیے گئے تھے۔ لیبیا کانٹیکٹ گروپ کا پہلا اجلاس اپریل میں ہوا تھا، جس میں معمر قذافی سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دوسری طرف 69 سالہ لیبیا کے رہنما معمر قذافی کا ایک آڈیو پیغام جمعرات کے روز ملکی ٹیلی وژن پر سنایا گیا، جس میں انہوں نے ایک بار پھر جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ قذافی کا کہنا تھا:’’آپ کے ساتھ میری جان بھی قربان ہونے کے لیے حاضر ہے ...میں اختتام تک لڑوں گا۔‘‘ قذافی نے فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی پر جنگی جرائم کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں یورپی یونین اور نیٹو کا خاتمہ ہوگا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس