1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیا: امریکی صدر کا کویت کے امیر کو فون

امریکی صدر باراک اوباما نے جمعے کو کویتی امیر کو فون کر کے لیبیا کی اپوزیشن کی عبوری قومی کونسل کے لیے کویت کی جانب سے 180 ملین یورو کی امداد پر شکریہ ادا کیا۔ صدر اوباما نے اس امداد کو حوصلہ افزا قرار دیا۔

default

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کو فون کرکے صدر اوباما نے کویت میں موجود امریکی فوجی دستوں کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ’صدر نے لیبیا کی عبوری قومی کونسل کے لیے کویت کی فراغ دلانہ قرار دیا۔‘

صدر اوباما کے مطابق ایسی مالی امداد سے قذافی مخالف طاقتوں کو اپنی فوری ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

Obama zu Libyen in Washington

امریکی صدر باراک اوباما نے لیبیا کی اپوزیشن کی امداد پر کویت کا شکریہ ادا کیا

کویت کی جانب سے گزشتہ ماہ لیبیا کے شہریوں کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی اپیل کی گئی تھی۔ دریں اثناء جمعرات کے روز عالمی طاقتوں نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی کے منجمد کیے گئے اثاثوں کو باغیوں کی ہنگامی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قذافی حکومت کی طرف سے اس فیصلے کو ’’چوری‘‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں قبائلی رہنماؤں نے جمعے کے روز اپنے ایک اجلاس کے بعد حکومت مخالف مظاہرین اور باغیوں کے خلاف عام معافی کے قانون کا مطالبہ کیا ہے۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عام معافی کے قانون کے تحت حکومت مخالف تحریک میں شامل ہونے والوں اور اسلحہ اٹھانے والوں کو معافی دی جائے گی۔

اس اعلامیہ میں اس قانون کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے اور نہ ہی قانون کے رائج کرنے کے حوالے سے کسی ٹائم ٹیبل کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم حکومتی ترجمان موسیٰ ابراہیم کے مطابق اس اجلاس میں ملک بھر سے قبائلی عمائدین جمع ہوئے۔ ابراہیم کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شریک ان قبائلی عمائدین میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں سے بھی نمائندے شریک ہوئے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شامل شمس

DW.COM