1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبیائی باغیوں کے رہنما کا برسلز میں استقبال

اب تک یورپی ممالک لیبیا میں باغیوں کی قائم کردہ قومی عبوری کونسل کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

default

یوزے مانویل باروسو اور محمود جبریل

زیادہ تر یورپی ملک قومی عبوری کونسل کو لیبیائی عوام کی نمائندہ حکومت تسلیم کر چکے ہیں۔ اب اس کونسل کے دوسرے بڑے رہنما محمود جبریل کا برسلز میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندرس فوگ راسموسن اور یورپی یونین کمیشن کے سربراہ یوزے مانویل باروسو نے استقبال کیا ہے۔ برسلز میں لیبیا کے باغیوں کا شاندار استقبال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قومی عبوری کونسل کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل راسموسن کا تعریف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لیبیا میں جمہورہت کے قیام کے لیے عبوری کونسل پر ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیبیا میں خانہ جنگی جاری ہے اور نیٹو عام شہریوں کی حفاظت کے لیے باغیوں کے ساتھ رہے گی، ’’ہم نے تین نکات پر اتفاق کیا ہے۔ نمبر ایک عام شہریوں کی حفاظت کے لیے نیٹو لیبیا میں اپنا جنگی مشن جاری رکھے گی۔ قذافی کی مسلح افواج ابھی بھی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں، جب تک یہ خطرہ موجود رہے گا، ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ نمبر دو قذافی حکومت یر طرح کا قانونی جواز کھو چکی ہے اور نمبر تین لیبیائی عوام کے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلے کا حل سفارتی طریقے سے نکالا جائے گا، جس میں بین الاقوامی برادری بھی شامل ہو گی۔‘‘

Libyen EU NATO Mahmoud Jibril Übergangschef

محمود جبریل کا کہنا تھا کہ لیبیا کے حالات روز بروز ابتر ہوتے جا رہے ہیں

راسموسن کا کہنا تھا کہ لیبیا کی سلامتی کا ہر صورت خیال رکھا جائے گا۔ لیبیا کی دو حصوں میں تقسیم کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب محمود جبریل کا کہنا تھا کہ لیبیا کے حالات روز بروز ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ملک کے ساتھ ساتھ سماجی اور نفسیاتی تباہی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان کہنا تھا کہ لیبیا کو اس وقت اقتصادی مدد کے ساتھ ساتھ مادی، نفسیاتی اور سماجی مدد کی بھی ضرورت ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے باغیوں پر ان کے زیر قبضہ علاقوں میں لوٹ مار، آتش زنی اور شہریوں پر تشدد کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے محمود جبریل کا کہنا تھا، ’’ یہ چند واقعات انقلاب کے ابتدائی چند دنوں میں رونما ہوئے تھے۔ ہم ان واقعات کی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم بلا امتیاز کہ کرنے والا کون ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہیں۔ ان واقعات کے ذمہ داروں کو عدالت کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘

دوسری جانب آج پھر قذافی حکومت نے نیٹو پر عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا ہے۔ لیبیا کے لیے روس کے خصوصی مندوب کا کہنا ہے کہ قذافی نے دارالحکومت طرابلس پر باغیوں کے قبضے کی صورت میں اسے تباہ کرنے کا پلان بنا رکھا ہے۔

رپورٹ:ہازِل باخ / امتیاز احمد

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM