1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لیبر پارٹی اسرائیلی مخلوط حکومت میں شامل ہونے پر راضی

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل کرنے میں کامیابی نہ ہونے کے بعد اب دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ اور بائیں بازو کی جماعت لیبر پارٹی نے مخلوط حکومت بنانے پر اتفاق کرلیا ہے۔

default

دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی سے بائیں بازو کی لیبر پارٹی کے اتحاد کو اندرونی اور بیرونی تنقید کا سامنا ہے

اس قسم کی تشکیل نے نہ صرف اسرائیل میں خدشات کو جنم دیا ہے بلکہ دنیا بھر میں اس تشکیل کو تنقید کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

منگل کے روز اسرائیل کی لیبر پارٹی کی کانگریس میں اٹھاون فیصد پارٹی ممبران نے لیکوڈ پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے حق میں ووٹ دئے۔ جس سے بائیں بازو کی اس جماعت کے بہت سے اراکین ناخوش ہیں۔ پارٹی کانگریس میں فیصلے سے پہلے بہت سخت بحث مباحثے ہوئے جہاں مقررین کے درمیان شدید نوعیت کا اختلاف رائے پایا گیا۔ ان اختلافات کی بنا پر اس قسم کے خدشات بھی ظاہر کئے جارہے تھے کہ پارٹی دو دھڑوں میں بٹ کر رہ جائے گی۔ ووٹینگ کے بعد اب ایہود باراک کو لیبر پارٹی کی جانب سے مخلوط حکومت بنانے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

ایہود باراک پر الزامات عائد کئے جار رہے ہیں کہ انہوں نے اقتدار کی خاطر اپنے سیاسی نظریات پر سودا کرلیا ہے۔ ایہود باراک ان الزامات کورد کرتے ہوئے اپنا مؤقف کچھ اسطرح بیان کرتے ہیں:’’میں دائیں بازو کا سیاستدان نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے نیتن یاہو سے خوف ہے۔ میں حکومت میں اپنے نظریے کی بہادری سے پاسداری کروں گا۔ یہ حکومت دائیں بازوکی حکومت نہیں بلکہ ایک ایسی حکومت ہوگی، جو اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کرے گی۔‘‘

لیکوڈ پارٹی کی جانب سے نامزد وزیراعظم نیتن یاہو جو لیکوڈ پارٹی کے سربراہ بھی ہیں، آج دوسری مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتوں کے اراکین سے مخلوط حکومت کی تشکیل کے موضوع پر مذاکرات کریں گے۔ نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ اگلے ہفتے تک اپنی نئی کابینہ کی تشکیل کا عمل مکمل کرلیں، جس کے لئے انہیں پارلیمان میں دیگر پارٹیوں کی حمایت کی ضرورت بھی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ نئی حکومت میں لیبر پارٹی کو پانچ وزارتیں سونپی جائیں گی۔

لیکوڈ پارٹی کے بہت سے ممبران نیتن یاہو کے اس فیصلے سے سخت ناخوش ہیں۔ دائیں اوربائیں بازو کی نئی مخلوط حکومت کی تشکیل کو بعض سیاسی تجزیہ نگار اسرائیل میں سیاسی استحکام کے لئے نقصان دہ تصور کررہے ہیں۔