1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لگتا ہے کوئی محفوظ نہیں، وکی لیکس کے نئے انکشافات

وکی لیکس کی جانب سے خفیہ امریکی دستاویزات منظر عام پر لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب اس ویب سائٹ نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی چند ایسی ملاقاتوں کی تفصیلات جاری کی ہیں، جن کی امریکی خفیہ ادارے این ایس اے نے نگرانی کی تھی۔

وکی لیکس کے تازہ ترین انکشافات کے مطابق این ایس اے نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مابین 2008ء میں ہونے والی بات چیت سنی تھی۔ انکشاف کے مطابق بان کی مون نے اس دوران تحفظ ماحول کے لیے اقدامات اور یورپی رہنماؤں کو ایک جگہ جمع کرنے کے حوالے سے میرکل کی کوششوں کی تعریف کی تھی۔ وکی لیکس کے مطابق اس دوران بان کی مون نے کہا تھا کہ یورپی یونین کی تائید کے بغیر اقوام متحدہ کے لیے پولینڈ میں ہونے والی کانفرنس میں فیصلہ سازی مشکل ہو جائے گی۔

Julian Assange Gründer Wiki Leaks Flash-Galerie

اس کے علاوہ اس بات چیت میں بان کی مون نے 2008ء میں امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں باراک اوباما کے حوالے سے بھی امید کا اظہار کیا تھا۔ بان کی مون نے میرکل سے کہا تھا کہ اوباما کا صدر منتخب ہونا تحفظ ماحول کی کوششوں میں مددگار ثابت ہو گا اور اس طرح امریکا کو ماحولیات کے موضوع پر ہونے والی بات چیت میں سنجیدگی سے شامل کرنے کا موقع ملے گا۔

جرمن ذرائع ابلاغ نے گزشتہ برس خبر دی تھی کہ این ایس اے کئی دہائیوں سے چانسلر دفتر کی جاسوسی کرتی رہی ہے۔ آج 23 فروری کو جاری ہونے والی وکی لیکس کی دستاویزات میں چانسلر میرکل کی فرانس کے سابق صدر نکولا سارکوزی اور سابق اطالوی وزیراعظم سلویو بیرلسکونی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی خفیہ نگرانی کا بھی تذکرہ ہے۔

اس تناظر میں وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج نے کہا، ’’ اب دیکھنا یہ ہے کہ اب اقوام متحدہ کا رد عمل کیا ہو گا۔ کیونکہ اگر اقوام متحدہ کے سربراہ کو ہدف بنایا جا سکتا ہے اور وہ بھی نتائج کے خوف کے بغیر تو عالمی رہنماؤں سے لے کر سڑک صاف کرنے والے ایک مزدور تک کوئی محفوظ نہیں۔‘‘