1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لکی مروت: ہلاک شدگان کی جنازہ ادا کردی گئی

پاکستان کے شمالی مغربی صوبہ سرحد کے علاقے لکی مروت میں گزشتہ روز خودکش حملے میں مارے جانے والوں کی تعداد بڑھ کر پچانوے ہوگئی ہے۔

default

امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے گزشتہ روز پیش آنے والے دہشت گردی کے اس بھیانک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ لکی مروت خودکش حملے کو طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے مقامی امن کمیٹی سے بدلہ لینے کی ایک کارروائی قرار دیا جارہا ہے۔ نمائندے کے مطابق گزشتہ روز گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور نے والی بال دیکھنے والے شائقین میں اس وقت دھماکہ کیا جب قریب ہی کی مسجد میں طالبان عسکریت پسندوں کی مخالف امن کمیٹی کا اجلاس ہورہا تھا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جائے حادثہ پر لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کام کئے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والوں میں دو پولیس اہلکار جبکہ چھ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے سپاہی بھی شامل ہیں۔

Hillary Clinton in Nigeria

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، فائل فوٹو

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردوں سے مقابلے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کا ساتھ دیں۔

صوبہ سرحد کا یہ علاقہ لکی مروت، عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ تصور کئے جانے والے قبائلی علاقے وزیرستان سے متصل ہے۔ شمالی مغربی پاکستان کے اس علاقے میں ہونے والے اس حملے میں کل شام اٹھاسی افراد موقع پر مارے گئے تھے اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔ جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات زخمیوں میں سے پانچ ہسپتال میں دم توڑ گئے ۔ اور اب مرنے والوں کی تعداد مذید اضافے کے ساتھ کم ازکم پچانوے ہو گئ ہے۔اس حملے میں کم ازکم چھ بچے بھی ہلاک ہوئے اور زخمیوں کی تعداد سو سے زائد ہے۔

لکی مروت میں یہ حملہ اکتوبر میں پشاور میں کئے جانے والے ایک حملے کے بعد سے اب تک کا سب سے ہلاکت خیز حملہ ہے ۔ اکتوبر میں پشاور میں کیے گئے حملے میں ایک سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Pakistan schwere Gefechte Armee gegenTaliban

فائل فوٹو

لکی مروت کے اس حملے کی برطانیہ اور امریکہ نے بھی شدید مزمت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ واشنگٹن پاکستانی عوام کی تائید وحمایت ہمیشہ جاری رکھے گا تاکہ انکی طالبان کی انتہا پسندی اور جبر سے نجات حاصل کرنے میں مدد کی جا سکے۔ وزیراعظم گیلانی کے بقول دہشت گردوں کا ایجنڈا ہے کہ خوف پھیلا کر پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے۔

پاکستان میں ملکی فوج نے کافی عرصے سے طالبان کے خلاف مختلف علاقوں میں طویل عرصے سے مسلح آپریشن شروع کر رکھے ہیں جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر طالبان کا کنٹرول ختم ہو چکا ہے۔ مگر چند علاقوں میں طالبان کو ابھی بھی کافی اثرو رسوخ حاصل ہے۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : شادی خان

DW.COM