1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لکی مروت کے بعد کوہاٹ میں حملہ، اکیس ہلاک

پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں رونما ہونے والی تازہ دہشت گردانہ کارروائی میں کم از کم اکیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ خیبر پختونخوا صوبے میں مسلسل دوسرے روز دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

default

بتایا جارہا ہے کہ بظاہر پولیس کو نشانہ بنائے جانے کی اس واردات میں خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد چھ بتائی جارہی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے مجموعی طور پر بیس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ کوہاٹ کی ضلع انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر خالد خان نے بتایا ہے کہ ایک گاڑی میں رکھا گیا بم پھٹنے سے یہ ہلاکتیں ہوئی تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ گاڑی پولیس ہیڈکوارٹر میں کھڑی تھی یا کوئی خودکش حملہ آور اسے چلاتے ہوئے اندر تک لایا تھا۔

Pakistan Außenminister Shah Mehmood Qureshi

شاہ محمود قریشی کے مطابق دہشت گردی کے واقعات کامیاب فوجی آپریشن کے ردعمل میں ہورہے ہیں

کوہاٹ کے پولیس ہیڈکوارٹر پر کئے گئے اس حملے کے سے وہاں رہائش پذیر اہلکاروں کے مکانوں اور دوسری ملحقہ عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے بعد عمارت کی بجلی منقطع ہونے سے امدادی کاموں میں بھی دشواری پیش آئی۔ پاکستانی طالبان کے ترجمان اعظم طارق نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حکومتی تنصیبات اور اہلکاروں کومزید نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان میں دہشت پسندانہ کارروائیوں کی ایک نئی لہر دیکھی جارہی ہے۔ جمعہ کو کوئٹہ میں شیعہ عقیدے سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے القدس ریلی پر کئے گئے خودکش حملے میں کم از کم 59 انسانی جانیں ضائح ہوئی تھیں۔ اس سے قبل بدھ کو لاہور میں حضرت علی کے یوم شہادت کے سلسلے میں نکالے گئے شیعوں کے ماتمی جلوس کو تین خودکش حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس میں بھی کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے اور ابھی پیر کو خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس کی ایک عمارت پر کئے گئے حملے میں کم از کم بیس افراداپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔

NO FLASH Anschlag Quetta Pakistan

کوئٹہ میں دہشت گردانہ کارروائی کے بعد افراتفری کا منظر

محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان بھر میں محض گزشتہ تین سال میں 3700 افراد دہشت گردی کی نظر ہوچکے ہیں۔ عسکریت پسندوں نے ڈرون حملوں اور پاکستانی فوج کی قبائلی علاقوں میں فعال انتہاپسندوں کے خلاف اپریشنز کے خلاف ملک اور بیرون ملک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم کا اعادہ کیا ہے۔

دریں اثنا پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دہشت گردی کی تازہ لہر کوکامیاب فوجی آپریشن کا ردعمل قرار دیا ہے۔ قریشی نے یہ بات لزبن میں اپنے پرتگالی ہم منصب لُوئیس اماڈو سے ملاقات کے بعد کہی۔ پاکستانی وزیر نے کہا کہ عسکریت پسند معصوم شہریوں کو نشانہ بناکر حکومت کے عزم کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عابد حسین

DW.COM