1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لکی مروت دھماکہ: ہلاکتوں میں اضافہ

پاکستان کے صوبہ سرحد میں جمعہ کے خودکش حملے میں ہلاک شدگان کی تعداد اب بڑھ کر کم از کم 90 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

default

جہاں پوری دُنیا میں امن و سلامتی اور ترقی کی نیک خواہشات کے ساتھ نئے سال کی آمد کا جشن منایا گیا وہیں پاکستان میں 2010ء کے پہلے ہی روز ایک شدید ترین خودکش حملہ ہوا۔ یہ حملہ شمال مغربی سرحدی صوبے کے علاقے لکی مروت کے قریب واقع گاوٴں شاہ حسن خیل میں ہوا۔ اس حملے میں زخمیوں کی تعداد 100سے بھی زائد ہے، جن میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکہ اتنا شدید تھاکہ اردگرد واقع 20 سے زیادہ مکانات تباہ ہوگئے۔

ضلعی پولیس افسر محمد ایوب خان کے مطابق ایک خود کُش حملہ آور نے اپنی گاڑی والی بال کا ایک میچ دیکھنے والے شائقین کے ہجوم سے ٹکرا دی۔ پولیس نے بتایا کہ تماشائیوں میں کئی بوڑھے اور بچے بھی شامل تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ اِس گاؤں کے بیشتر باشندے طالبان عسکریت پسندوں کے مخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔ مقامی صحافی ثمر گُل مروت نے بھی ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہی خیالات کا اظہار کیا۔’’ماضی قریب میں شاہ حسن خیل گاوٴں عسکریت پسندوں کا گڑھ رہا ہے تاہم یہاں کے لوگ ان سے اور ان کی کارروائیوں سے بہت بیزار تھے۔ مقامی لوگوں نے طالبان کے خلاف امن جرگہ بھی بنایا، اسے سیکیورٹی فورسز کا تعاون

Pakistan Bannu Attentat Volleyball

جمعہ کے دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو بنوں ہسپتال لایا جا رہا ہے

حاصل تھا۔ طالبان نے کئی مرتبہ یہاں کے لوگوں کو دھمکیاں دیں لیکن وہ خوف زدہ نہیں ہوئے۔‘‘

پاکستان سے شائع ہونے والے اخبار ’دی نیشن‘ نے اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 95 بتائی تاہم اخبار ’ڈان‘ اور ’جنگ‘ کے مطابق یہ تعداد تقریباً 90 ہے۔ اس سے قبل صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے 50 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی تھی۔

پاکستانی سیکیورٹی حکام نے اس خودکش حملے کے لئے مسلم شدت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن تاحال کسی بھی عسکری گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

بعض مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ طالبان کی انتقامی کارروائی ہوسکتی ہے۔ صحافی ثمر گُل اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں۔’’جب مقامی لوگ طالبان عسکریت پسندوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوئے تو انہوں نے خودکش حملے کے ذریعے اپنا پیغام دے دیا۔‘‘

سوات، جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں اپنے ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے باوجود عسکریت پسند خود کُش حملے کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

رپورٹ: خبر رساں ادارے/ گوہر نذیر گیلانی

ادارت: ندیم گل

DW.COM