1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لکسمبرگ: منشیات فروشوں کی جنت

یورپی یونین اور یورو زون کا رکن چھوٹا سا ملک لکسمبرگ سوئٹزر لینڈ کی طرح اپنے بینکوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن گزشتہ چند برسوں سے یہ ملک منشیات فروشوں اور منشیات کے عادی افراد کی جنت بھی کہلانے لگا ہے۔

default

لکسمبرگ سٹی کہلانے والے لکسمبرگ کے دارالحکومت میں منشیات کے عادی افراد کے لیے ایک ایسا مرکز بھی قائم ہے، جہاں سرکاری نگرانی میں ایسے افراد کو محدود مقدار میں منشیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ نشے کے دیرینہ عادی ایسے افراد کی اس عادت سے چھٹکارا پانے میں بتدریج مدد کی جا سکے۔

Europäischer Gerichtshof Luxemburg

لکسمبرگ شہر میں یورپی عدالت انصاف کی عمارت

اس ’ڈرگ ہیلپ سینٹر‘ میں باقاعدگی سے آنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ انہی میں سے ایک ایسا نوجوان بھی ہے، جس کی عمر 23 برس ہے اور وہ گزشتہ 12 سال سے نشے کا عادی ہے۔ وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ شروع میں اس نے افیون استعمال کرنا شروع کی اور پھر بات ہیروئن اور کوکین تک پہنچ گئی۔ اس نوجوان کا کہنا ہے کہ وہ ہر ہفتے دو مرتبہ اس مرکز میں آتا ہے۔ وہاں جا کر اس کا نشہ بھی پورا ہو جاتا ہے اور یہ خطرہ بھی نہیں ہوتا کہ گندی سرنجیں وغیرہ استعمال کر کے وہ اپنی نشے کی عادت کی وجہ سے ایڈز یا ایسے ہی کسی دوسرے مہلک مرض کا شکار بھی ہو جائے گا۔

اس نوجوان کا کہنا ہے، ’’لکسمبرگ کی مجموعی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہاں منشیات کے عادی افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لکسمبرگ کے کئی دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی منشیات فروشوں اور نشے کے عادی افراد کی تعداد کافی زیادہ بنتی ہے۔ لیکن کسی سڑک کے کنارے آپ یہ سب کچھ نہیں دیکھ سکتے۔‘‘

یورپی یونین کے رکن اس ملک کی کُل آبادی صرف ساڑھے چار لاکھ ہے لیکن لکسمبرگ ایک امیر ملک ہے، جہاں قانونی طور پر کسی بھی کارکن کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 1750 یورو بنتی ہے۔ لکسمبرگ میں مجموعی طور پر اور اس کے دارالحکومت میں خاص طور پر پولیس اہلکار اکثر منشیات فروشوں کے خلاف مصروف عمل نظر آتے ہیں۔

Symbolbild Sucht Drogen Tabletten Pillen Tablettensucht Flash-Galerie

مجموعی آبادی کے تناسب سے لکسمبرگ میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد کافی زیادہ ہے

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ اہلکاروں کی رائے میں ہمسایہ یورپی ملکوں سے لکسمبرگ سٹی جانے والے یورپی باشندوں کی روزانہ تعداد ایک لاکھ 40 ہزار کے قریب رہتی ہے۔ ان میں منشیات کے ایسے ممکنہ خریدار بھی ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے لکسمبرگ شہر منشیات فروشوں کے لیے بہت پر کشش بن چکا ہے۔

اس ملک میں منشیات کی روک تھام کے ملکی ادارے کے سربراہ اسٹِیو شمِٹس کا کہنا ہے کہ لکسمبرگ میں چرس اور افیون سے لے کر ہیروئن اور کوکین تک ہر قسم کی منشیات زیادہ تر ہالینڈ سے بیلجیم کے راستے وہاں پہنچتی ہیں اور ان کے خریداروں میں سب سے زیادہ تعداد فرانسیسی باشندوں کی ہوتی ہے۔

Steve Schmitz کہتے ہیں، ’’لکسمبرگ میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کا تعلق معاشرے کے ہر طبقے سے ہے۔ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو چھپ کر کوکین کا نشہ کرتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو ہیروئن کے عادی ہیں اور عرف عام میں ’جنکی‘ کہلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نشے کے عادی مقامی باشندوں میں طلباء اور عام کارکنوں سے لے کر ایسے افراد بھی ہیں، جو مثال کے طور پر مختلف ریڈیو اسٹیشنوں اور ٹیلی وژن اداروں کے لیے کام کرتے ہیں۔‘‘

Treffen der EU-Finanzminister in Luxemburg 7. Juni 2010 Jean-Claude Juncker

لکسمبرگ کے وزیر اعظم ژاں کلود یُنکر یورپی یونین کے یورو گروپ کے سربراہ بھی ہیں

Schmitz کے مطابق یہ مسئلہ لکسمبرگ میں منشیات فروشوں کی گرفتاری سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ جب کسی چھوٹے ڈیلر کو پکڑا جاتا ہے تو وہ جس کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے، وہ ہالینڈ میں یا اس سے بھی دور کسی دوسرے ملک میں بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’منشیات کے اس کاروبار کے پیچھے بڑے نام ہالینڈ یا اس سے بھی دور بیٹھے ہوتے ہیں۔ جب کوئی ڈیلر گرفتار کر لیا جاتا ہے، تو وہ نئے لوگ بھرتی کر لیتے ہیں۔‘‘

لکسمبرگ کے انسداد منشیات کے محکمے کے مطابق اپنی بینکنگ انڈسٹری کے لیے مشہور اس ملک میں منشیات کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کو بڑی کمائی ہوتی ہے۔ پولیس کے بقول سالانہ بنیادوں پر اس ناجائز آمدنی کا اندازہ تقریباﹰ 250 ملین یورو لگایا جاتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس