لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور جبری جسم فروشی کا مقدمہ شروع | معاشرہ | DW | 12.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور جبری جسم فروشی کا مقدمہ شروع

برطانیہ میں پانچ مردوں اور دو خواتین کے خلاف نوجوان لڑکیوں کا کئی برسوں تک جنسی استحصال کرنے کے مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ ملزمان نے گھناؤنا کاروبار اُس وقت تک جاری رکھا جب تک پولیس کے ہاتھ اُن تک نہیں پہنچ گئے۔

default

کیرن میک گریگر شیفیلڈ شہر کی عدالت میں داخل ہوتے ہوئے

برطانیہ کے شمالی شہر شیفیلڈ میں اُس مقدمے کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں سات افراد کو نوجوان لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان سات ملزمان میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ ساتوں کم از کم تیرہ برس تک نوجوان لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے ’غلاموں‘ کی طرح استعمال کرتے رہے تھے۔ اِن پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے قبضے میں رکھی گئی خواتین کو جبری جسم فروشی پر مجبور کرتے تھے۔ ملزمان ان نوجوان لڑکیوں کو بند کمروں میں تالے لگا کر رکھتے تھے۔ ان مقید لڑکیوں کو بڑی عمر کے مردوں کو جنسی آسودگی کے لیے اکثر و بیشتر پیش کیا جاتا تھا۔

شیفیلڈ شہر کی عدالت میں ایک گواہ نے بتایا کہ اُسے اور دوسری لڑکیوں کو کمروں میں مقید رکھا جاتا تھا اور مقید کرنے والی کیرن میک گریگر ہے۔ میک گریگر پہلے لڑکیوں سے دوستی کرتی اور پھر انہیں حیلے بہانوں سے اپنے اڈے پر لا کر قید کر دیتی تھی۔ بعد میں وہ انہیں بڑی عمر کے مردوں کے ساتھ جنسی افعال انجام دینےکے لیے مجبور کرتی۔ جنسی غلامی اور جبری جسم فروشی کا سلسلہ سن 1980 کی دہائی کے آخری سالوں میں روتھرہام نامی قصبے میں شروع ہوا اور اگلے تیرہ برس تک جاری رہا۔ کیرن میک گریگر کی عمر اب اٹھاون برس ہے اور اُس کو جنسی زیادتی کی منصوبہ سازی کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔

Bildergalerie Vietnam B52 Cocktail

ٹین ایجر لڑکیوں کو شراب پلا کر جبری جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا تھا

عدالت میں ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ جب کیرن کے جال میں پھنسی تو وہ ٹین ایجر تھی اور اب وہ تینتالیس برس کی ہو گئی ہے۔ اُس نے تفتیشی پولیس افسر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر کے پیچیدہ مسائل اور لڑائی جھگڑے کے ماحول سے تنگ آ کر کیرن کے دوستی کے حلقے میں شامل ہوئی تھی۔ اِس قربت میں اضافہ ہوا تو وہ گھر چھوڑ کر اُس کے ساتھ ہی رہنے لگی۔

اس عینی شاہد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ کیرن میک گریگر سے ملی تو اُسے محسوس ہوا کہ وہ ایک اور ماں کی قربت میں پہنچ گئی ہے لیکن وہ ایسا سمجھنے میں پوری طرح سے غلط تھی۔ جن لڑکیوں کے ساتھ غلاموں کا سلوک روا رکھا گیا تھا، وہ تنازعات کے شکار گھروں سے تعلق رکھتی تھیں۔

گواہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اور دوسری لڑکیاں اُس مکان کی صفائی ستھرائی کا کام بھی کیا کرتی تھیں، جس میں انہیں محبوس رکھا جاتا تھا۔ شہادت کے مطابق کسی لڑکی کو مکان سے باہر نکلنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جاتی تھی اور وہ مسلسل گھٹنوں اور ہاتھوں پر یعنی چوپایوں کی طرح چلنے اور غلاموں کی طرح رہنے پر مجبور تھیں۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ایک درجن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، جبری جسم فروشی اور ٹارچر کے شواہد ملے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق یہ لڑکیاں ایسے مردوں کو بھی فراہم کی گئیں، جو جنسی لذت کے چکروں میں کیرن میک گریگر تک پہنچتے تھے۔ اِس مقدمے میں ملوث پانچ مردوں کو مختلف الزامات کا سامنا ہے۔