ليبيا کے قريب تارکين وطن کی کشتی ڈوب گئی، درجنوں لاپتہ | مہاجرین کا بحران | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ليبيا کے قريب تارکين وطن کی کشتی ڈوب گئی، درجنوں لاپتہ

ليبيا کی بحريہ نے بتايا ہے کہ بحيرہ روم ميں ايک کشتی ڈوب جانے کے واقعے کے بعد نوے سے لے کر ايک سو تک تارکين وطن فی الحال لاپتہ ہيں۔ يہ واقعہ ليبيا کے ساحل سے قريب پيش آيا اور اس کی اطلاع منگل کو رات گئے دی گئی۔

بحريہ کے ترجمان ايوب قاسم نے بتايا کہ ڈوبنے والی ربڑ کی کشتی پر ايک سو سے زائد افراد سوار تھے۔ ريسکيو حکام صرف سترہ افراد کی جانيں بچانے ميں کامياب رہے۔ کشتی ڈوبنے کے واقعے ميں بچ جانے والے مہاجرين کئی گھنٹوں تک الٹی ہوئی کشتی کے کنارے پکڑ کر انتظار کرتے رہے اور پھر کہيں جا کر ريسکيو حکام جائے واقعہ پر پہنچے۔ يہ کشتی ليبيا کے الخمس نامی شہر کے قريبی سمندر ميں ڈوبی، جو دارالحکومت طرابلس سے تقريباً ايک سو کلوميٹر مشرق کی طرف واقع  ہے۔

ايک اور واقعے ميں ليبيا کی بحريہ نے 267 افراد کو ڈوبنے سے بچا ليا۔ يہ واقعہ طرابلس سے مغرب کی طرف واقع شہر الزاويہ کی ساحلی پٹی کے پاس پيش آيا۔ بچائے جانے والوں ميں مختلف افريقی ملکوں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزين شامل ہيں۔ بحريہ کے ترجمان ايوب قاسم کے مطابق ريسکيو کيے جانے والے افراد ميں عورتيں اور سترہ بچے بھی شامل ہيں۔ ان کے بقول خراب موسم کی وجہ سے ريسکيو کے آپريشنز ميں کافی دشوارياں بھی پيش آئی تھيں۔

بين الاقوامی ادارے برائے مہاجرين (IOM) کے مطابق سن 2017 ميں يورپ تک پہنچنے کی کوششوں کے دوران کم از کم 3,116 مہاجرين بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

DW.COM