ليبيا ميں پھنسے ہوئے مہاجرين کے ليے اميد کی کِرن | مہاجرین کا بحران | DW | 20.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ليبيا ميں پھنسے ہوئے مہاجرين کے ليے اميد کی کِرن

اقوام متحدہ کے ايک سينیئر اہلکار نے بتايا ہے کہ ليبيا سے ہزاروں تارکين وطن کو آئندہ برس مختلف ممالک ميں منتقل کيا جائے گا اور اس سلسلے ميں يہ عالمی ادارہ کئی افريقی اور يورپی رياستوں کے ساتھ مشاورت کے عمل ميں مصروف ہے۔

ليبيا ميں زير حراست مہاجرين ميں سے قريب دس ہزار کو آئندہ برس يورپ اور افريقہ کے مختلف ملکوں ميں بسايا جائے گا۔ يہ بات اقوام متحدہ کی مہاجرين سے متعلق ايجنسی کے ايک اعلیٰ اہلکار روبرٹو میگنون نے منگل کے روز بتائی ہے۔ ان کے بقول ليبيا ميں انتہائی خستہ حال کيمپوں اور ناقص سہوليات کے سبب وہاں موجود مہاجرين کو مشکلات کا سامنا ہے اور انہی مشکلات سے چھٹکارا دلانے کے ليے مہاجرين کو وہاں سے منتقل کرنے کا فيصلہ کيا گيا ہے۔

يورپ پہنچنے کے خواہاں تارکين وطن کے ليے ليبيا ايک اہم ملک ہے۔ وہاں سرگرم انسانوں کے اسمگلرز سياسی بے يقينی اور عدم استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں مہاجرين کو بحيرہ روم کے خطرناک راستے يورپ بھيج چکے ہيں۔ تاہم رواں سال جولائی ميں اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ طرابلس حکومت نے ملک ميں سرگرم اسمگلروں کے خلاف اٹلی کی مدد سے کارروائی شروع کر رکھی ہے، جس کے نتيجے ميں اٹلی پہنچنے والے مہاجرين کی تعداد ميں دو تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم مہاجرين کی مدد کرنے والے اداروں اور رضاکاروں کے مطابق اس پيش رفت کے نتيجے ميں ليبيا ميں زير حراست مہاجرين کے حالات ميں کافی بدتر ہوئے ہیں۔ متعدد رپورٹوں کے مطابق تارکين وطن کو ناقص حراستی مراکز ميں خوراک کی کمی، تشدد، گنجائش سے زائد افراد کی موجودگی اور طبی سہوليات کی عدم دستيابی جيسے مسائل کا سامنا ہے۔

اس صورتحال ميں بہتری لانے کے ليے اقوام متحدہ ان کوششوں ميں ہے کہ مہاجرين کو ديگر ممالک ميں بسايا جائے۔  اقوام متحدہ کی مہاجرين سے متعلق ايجنسی کے ايک اعلیٰ اہلکار روبرٹو میگنون نے بتايا، ’’اگلے سال يعنی سن 2018 ميں ہم پانچ تا دس ہزار مہاجرين کو منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہيں۔ اس عمل ميں عورتوں، بچوں، بزرگوں اور بيمار افراد کو ترجيح دی جائے گی۔‘‘ ان کے بقول اس ہفتے بھی ساڑھے تين سو تارکين وطن کو اٹلی منتقل کيا جا رہا ہے اور جنوری کے آخر تک ايک ہزار مہاجرين کو منتقل کرنے کا کام مکمل کر ليا جائے گا۔

روبرٹو میگنون نے بتايا ہے کہ ان مہاجرين کو بسانے کے ليے کئی افريقی رياستوں سميت چند يورپی ملکوں سے مکالمت جاری ہے۔ ليبيا ميں اس وقت رجسٹرڈ تارکين وطن کی تعداد 44,306 ہے۔

DW.COM