1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ليبيا ميں عنقريب عبوری حکومت کی تشکيل کا اعلان

پہلے يہ کہا گيا تھا کہ ليبيا ميں عبوری حکومت اُس وقت تشکيل دی جائے گی، جب معمر القذافی کو گرفتار کيا جا چکا ہوگا يا ملک ميں جنگ ختم ہو چکی ہو گی۔ ليکن يہ ابھی تک نہيں ہوسکا ہے۔

سرت ميں ايک باغی فوجی قذافی کی حامی فوج پر راکٹ داغ رہا ہے

سرت ميں ايک باغی فوجی قذافی کی حامی فوج پر راکٹ داغ رہا ہے

بندرگاہی شہر سرت ميں قذافی کے حامی ابھی تک شديد مزاحمت کر رہے ہيں۔ اب يہ اعلان کيا گيا ہے کہ اس کے باوجود عبوری حکومت اگلے چند دنوں ميں تشکيل دے دی جائے گی۔

ليبيا ميں ہر اچھی خبر پر خوشی منانے کے ليے ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے۔ ليکن ہوا ميں چلائی جانے والی يہ گولياں زمين پر واپس بھی آتی ہيں اور اکثر اُن کی زد ميں آ کر لوگ زخمی يا ہلاک ہو جاتے ہيں۔ ليبيا ميں اسلحے کی ريل پيل ہے، اس وجہ سے بھی کيونکہ قذافی حکومت نے شہريوں ميں اس اميد پر اسلحہ تقسيم کيا تھا کہ وہ قذافی کی فوج کے خلاف استعمال نہيں کيا جائے گا۔

جنيوا ميں اقوام متنحدہ کے يورپی ہيڈ کوارٹر پر ايک گارڈ ليبيا کی عبوری قومی کونسل کا پرچم لہراتے ہوئے

جنيوا ميں اقوام متنحدہ کے يورپی ہيڈ کوارٹر پر ايک گارڈ ليبيا کی عبوری قومی کونسل کا پرچم لہراتے ہوئے

ليبيا ميں اس وقت نظم و نسق اور امن و امان قائم کرنے والا کوئی باقاعدہ ادارہ نہيں ہے اور يہ کام عملی طور پر مليشيا دستے انجام دے رہے ہيں۔ طرابلس کی عبوری انتظامی کونسل کے 21 اراکين ميں سے ايک احمد رحمان کا کہنا ہے کہ سکيورٹی کے مسائل پر قابو پانا عبوری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جب وہ اپنا کام سنبھال لے گی تو صورتحال معمول پر آجائے گی۔

طرابلس کی عبوری انتظامی کونسل کی ذمہ داريوں ميں سے ايک اُن افراد کو رہائش فراہم کرنا ہے، جو جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو گئے ہيں۔ جن کے مکانات تباہ ہو چکے ہيں۔

قومی عبوری کونسل کے وزير اعظم محمود جبريل

قومی عبوری کونسل کے وزير اعظم محمود جبريل

عبوری حکومت کو بہت مشکل مسائل کا سامنا ہے۔ انہيں ايک نيا آئين بناناہے، اسلحے کی ملکيت،انتخابات، پانی، تيل اور دوسرے امور کے بارے ميں نئے قوانين وضع کرنا ہيں۔ انہيں مسلح باغيوں کو باقاعدہ سکيورٹی فورسز ميں شامل کرنا ہے اور سرکاری افسران اور اہلکاروں کی نئی کھيپ تيارکرنا ہے۔ اس کے علاوہ عبوری حکومت کو وہ رقوم جن کا عالمی برادری نے اس سے وعدہ کيا ہے، ليکن جو ابھی تک اُسے موصول نہيں ہوئی ہيں، با مقصد اور منصفانہ طور پر تقسيم کرنا ہوں گی۔ ان ميں ليبيا کے خود اپنے اربوں ڈالر شامل ہيں جو دنيا کے مختلف ممالک ميں موجود ہيں اور جو ليبيا کی ضروريات کے ليے کافی سمجھے جاتے ہيں۔

ليبيا کے تاجربھی ہمدردی کی بنياد پر اور سلامتی کے قيام کے ليے عطيات دے رہے ہيں۔

ليبيا ميں باغيوں اور عام شہريوں کے پاس جو وافر ہتھيار ہيں وہ عبوری حکومت سے بے اطمينانی پر اُس کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہيں۔

رپورٹ: بيورن بلاشکے،  طرابلس / شہاب احمد صديقی

ادارت: حماد کيانی    

 

DW.COM