ليبيا سے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اطالوی کوششیں | مہاجرین کا بحران | DW | 18.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ليبيا سے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اطالوی کوششیں

اٹلی اور ليبيا کے درميان 2008ء کے اس معاہدے کی تجديد پر بات چيت جاری ہے، جس کے تحت شمالی افريقہ سے مہاجرين کی غیر قانونی يورپ آمد روکنے کے ليے روم حکومت نے ليبيا ميں اربوں ڈالر کی سرمايہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔

سن 2008 ميں طے پانے والے ’دوستی کے سمجھوتے‘ کی ممکنہ تجديد پر دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کا آغاز ليبيا کی اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ نئی حکومت کے وزير خارجہ محمد سيالہ اور ان کے اطالوی ہم منصب پاؤلو جينٹيلونی نے منگل سترہ مئی کے روز اطالوی دارالحکومت روم ميں کيا۔ اس بارے ميں ميزبان ملک کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بيان ميں کہا گيا، ’’دونوں وزراء نے معاہدے کی شرائط کی جلد از جلد تجديد پر بات چيت کی۔‘‘

اٹلی اور لیبیا کے مابین آٹھ سال قبل طے پانے والے معاہدے کو حتمی شکل اس دور کے اطالوی وزير اعظم سلويو برلسکونی اور ليبيا کے مقتول حکمران معمر قذافی نے دی تھی۔ بعد میں دونوں رہنماؤں نے اس معاہدے کو سن 1911 سے لے کر سن 1943 تک ليبيا پر اٹلی کی نوآبادیاتی حکومت کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی کے طور پر پيش کيا تھا۔

اس معاہدے کے تحت روم حکومت نے اس شمالی افريقی ملک ميں سڑکوں کی تعمیر، توانائی اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے شعبوں میں 25 سال تک کے عرصے کے لیے سالانہ 200 ملين امريکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔ تب ڈھائی عشروں پر محیط مدت میں لیبیا میں اس اطالوی سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت پانچ بلين ڈالر بنتی تھی۔

آٹھ سال قبل طے پانے والے معاہدے کو حتمی شکل اس دور کے اطالوی وزير اعظم سلويو برلسکونی اور ليبيا کے مقتول حکمران معمر قذافی نے دی تھی

آٹھ سال قبل طے پانے والے معاہدے کو حتمی شکل اس دور کے اطالوی وزير اعظم سلويو برلسکونی اور ليبيا کے مقتول حکمران معمر قذافی نے دی تھی

بعد ازاں ليبيا ميں سياسی افراتفری پھیل گئی، قذافی دور کا نہ صرف خاتمہ ہو گیا بلکہ خود معمر قذافی بھی لیبیا میں مسلح باغیوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔ ليبيا میں یہ سياسی عدم استحکام اور انتشار آج تک جاری ہے۔ پھر انہی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانوں کے اسمگلروں نے لاکھوں پناہ گزينوں کو غير محفوظ کشتيوں پر سوار کرا کے يورپ اسمگل کرنا شروع کر ديا۔ يہ پيش رفت بھی کافی حد تک ان حالات کی ذمے دار ہے کہ يورپ کو اس وقت دوسری عالمی جنگ کے بعد سے لے کر آج تک کے مہاجرین کے شدید ترین بحران کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کی حمايت يافتہ لہبیا کی يونٹی حکومت کے ارکان کی مارچ کے اواخر ميں ليبيا آمد کے بعد سے مغربی ممالک اب يہ اميديں لگائے بيٹھے ہيں کہ نئی حکومت شدت پسند تنظيم داعش سے نمٹنے کے علاوہ داخلی سطح پر جاری مسلح کارروائيوں کو بھی روکے گی اور لیبیا سے یورپ کی طرف غير قانونی ترک وطن بھی روک پائے گی۔ لیکن یونٹی حکومت کو ابھی تک شدید مسائل کا سامنا ہے اور اسے تو تاحال دارالحکومت طرابلس پر بھی مکمل کنٹرول حاصل نہيں۔

اٹلی خاص طور پر لیبیا کے ساتھ اپنے ماضی کے معاہدے کی تجدید اس لیے بھی چاہتا ہے کہ يورپی حکام کو مجموعی طور پر شدید خدشات لاحق ہیں کہ تارکین وطن کی آمد کے لیے استعمال ہونے والے بلقان کی ریاستوں والے راستے کی بندش کے بعد انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے جرائم پیشہ گروہ اپنے کاروبار کے لیے لیبیا سے اٹلی تک کے سمندری راستے کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔