1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لوگوں کی جاسوسی کے بہت سے طریقے ہیں، اعلیٰ امریکی مشیر

وائٹ ہاؤس کی سینیئر مشیر کیلیانے کونوے نے کہا کہ ان کے پاس صدر ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر اوباما پر لگائے گئے ان الزامات کے ثابت کرنے کے کوئی شواہد نہیں، جن میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اوباما نے ان کی نگرانی کی تھی۔

چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے ٹوئٹر پیغامات میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ صدارتی مہم کے دوران باراک اوباما کے حکم پر ان کے ٹیلی فون سنے گئے تھے۔ اس بیان کے بعد ان پر تنقید کی جا رہی تھی کہ ایسی صورت میں الزام عائد کرنے کی بجائے ٹرمپ کو شواہد پیش کرنا چاہیے تھے۔

ٹرمپ کی مشیر کونوے نے وکی لیکس پر حال ہی میں منکشف ہونے والی ان دستاویزات کے تناظر میں کہا کہ ممکنہ طور پر صدر اوباما نے ٹرمپ کی نگرانی کے لیے دیگر طریقے بروئے کار لائے ہوں گے، کیوں کہ خفیہ اداروں کے پاس لوگوں کی نگرانی کے کئے راستے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا تاہم کہنا ہے کہ کونوے کے اس بیان کے باوجود ٹرمپ پر جاری تنقید میں کمی واقع نہیں ہو گی۔ پیر کے روز ایک امریکی نشریاتی ادارے اے بی سے کے ایک پروگرام میں ٹرمپ کے الزامات کے حوالے سے شواہد کی بابت پوچھے جانے والے ایک سوال پر کونوے نے کہا، ’’میرے پاس اس کے جواب میں ثبوت یا شواہد نہیں مگر مجھے خوشی ہے کہ وائٹ ہاؤس کی کمیٹی اس کی تفتیش کر رہی ہے۔‘‘

Symbolbild NSA Überwachung (imago/Roland Mühlanger)

وکی لیکس اس سے قبل بھی خفیہ دستاویزات جاری کر چکی ہے

بعد میں اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کونوے نے مزید کہا، ’’امریکی انتظامیہ کو خوشی ہے کہ کانگریس کی ایک کمیٹی بھی اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔‘‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بغیر شواہد کے سابق صدر پر الزامات عائد کیے۔ سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ میں نیشل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر کے بہ طور کام کرنے والے جیمز کلیپر پہلے ہی ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔

دوسری جانب وکی لیکس نے رواں ماہ قریب آٹھ ہزار خفیہ دستاویزات جاری کی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ سی آئی اے کس طرح نگرانی کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتی ہے، جن میں کمپوٹرز، موبائل فونز اور حتی کہ اسمارٹ ٹی وی بھی ہیک کیے جاتے ہیں۔

اے بی سی کے پروگرام میں شریک وائٹ ہاؤس کی اعلیٰ مشیر کونوے کا اسی حوالے سے کہنا تھا کہ ان دستاویزات سے معلوم چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے یہ دعوے درست ہیں۔ کونوے کا کہنا تھا، ’’میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ بدقسمتی سے نگرانی کے بہت سے طریقے ہیں۔ مائیکرو ویو بھی کسی کیمرے میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ ہم اسے جدید زندگی کی ایک حقیقت ہی کہہ سکتے ہیں۔‘‘