1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

لوکارنو فلمی میلے میں دو سو فلموں کی نمائش

سوئٹزرلینڈ کے شہر لوکارنو میں پانچ اگست سے مشہورِ زمانہ بین الاقوامی فلمی میلہ شروع ہو رہا ہے۔ یہ میلہ اپنی نوعیت کا اڑسٹھ واں میلہ ہے اور پندرہ اگست تک جار ی رہے گا۔

فرانس کے ’کن‘، اٹلی کے ’وینس‘ اور جرمنی کے ’برلن‘ فلمی میلوں کے بعد لوکارنو کو دنیا کا اہم ترین فلمی میلہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس میلے کو شروع کرنے والی شخصیات میں چارلی چپلن جیسی ہمہ جہت فلمی شخصیت کا بھی نام آتا ہے۔

اس بار اس میلے کا آغاز امریکی فلم ’رِکی اینڈ دی فلیش‘ سے ہو رہا ہے، جس میں ممتاز امریکی اداکارہ میرل اسٹریپ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ میلے کے گیارہ دنوں کے دوران مختلف شعبوں میں مجموعی طور پر تقریباً دو سو فلمیں دکھائی جائیں گی۔

اس میلے کا اعلیٰ ترین اعزاز گولڈن لیپرڈ یا ’سنہری چیتا‘ ہے۔ اس اعزاز کے لیے مقابلے کے شعبے میں پوری دنیا سے اُنیس فلمیں شریک ہیں، جن میں فیچر فلموں کے ساتھ ساتھ دستاویزی فلمیں بھی شامل ہیں۔

مقابلے کے شعبے میں شامل تین فلمیں ایسی ہیں، جن میں جرمن پروڈیوسرز نے بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان فلموں میں سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کے اشتراک سے بننے والی فلم Heimatland (وطن)، ایران اور جرمنی کے اشتراک سے بننے والی فلم Paradise (جنت) اور میکسیکو اور جرمنی کی مشترکہ پیشکش ’آئی پرامس یُو انارکی‘ بھی شامل ہیں۔

زیادہ تر فلمیں معمول کے مطابق ہالی وُڈ سے ہی آئی ہیں لیکن جیسا کہ اس میلے کے ڈائریکٹر کارلو شاتریاں نے بتایا، اس میلے کا مقصد نوجوان اور کسی بڑے فلم اسٹوڈیو کے ساتھ وابستگی کے بغیر کام کرنے والے آزاد فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ ایسے ہی تخلیق کاروں میں جرمنی کے لارس کراؤمے بھی شامل ہیں، جن کی لوکارنو میں دکھائی جانے والی فلم ایک ایسے جرمن اٹارنی جنرل کے بارے میں ہے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد کے مغربی جرمنی میں نازی سوشلسٹوں کے خلاف سرگرم ہوتا ہے۔

مشہور امریکی اداکار اور فلم ڈائریکٹر رابرٹ رَیڈ فورڈ گزشتہ کئی برسوں سے آزادانہ طور پر کام کرنے والے فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی فلموں کے لیے ’سَن ڈانس‘ کے نام سے ایک بین الاقوامی فلمی میلے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ فلمی جریدے ’دی ہالی وُڈ رپورٹر‘ نے حال ہی میں لوکارنو کو ’یورپ کا سَن ڈانس‘ قرار دیا ہے، جو اس امر کا اعتراف ہے کہ یہ میلہ بھی آزادانہ طور پر فلمیں تخلیق کرنے والی شخصیات کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

چند ایک اعزازات ابھی سے طے ہیں، مثلاً فلمی ستاروں بُلے اوگیئر، ایڈورڈ نورٹن، اینڈی گارسیا اور لیجنڈ امریکی ہدایتکار مائیکل کیمینو کو فلم کے لیے اُن کی عمر بھر کی خدمات یا مخصوص کارکردگی کے لیے اعزازی گولڈن لیپرڈ دیے جائیں گے۔