1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لومڑیوں کےحملے: پالتو جانوروں کے مالکان کوتنبیہ

جرمنی میں رائن لینڈ کے علاقے میں عام لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے پالتو جانوروں کو لومڑیوں کے ممکنہ حملوں سے بچانے کے لئے گلیوں اور سڑکوں سے دور رکھیں۔

default

یہ تنبیہ لومڑیوں کی طرف سے پانچ پینگوئنز کو کھا جانے کے واقعات کے بعد جاری کی گئی۔ یہ واقعات کولون شہر کے چڑیا گھر کے ایک ایسے حصے میں پیش آئے، جسے عام طور پر گوشت خور جانوروں سے پاک علاقہ سمجھا جاتا تھا۔

وسطی یورپ میں سرخ رنگ کی لومڑی کی نسل ماضی میں ناپید ہو جانے کے خطرے سے دوچار تھی۔ لیکن اب ان گوشت خور جانوروں کی آبادی میں ڈرامائی حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وسطی یورپ میں اس جانور کے کئی سابقہ قدرتی دشمن اب نظر نہیں آتے۔

Arctic Fox

آرکٹیک کی لومڑی

ان لومڑیوں نے اب بظاہر اپنے سب سے خطرناک دشمن یعنی انسانوں سے ڈرنا بھی کم کر دیا ہے۔ وہ اب زیادہ سے زیادہ شہری علاقوں میں نظر آنے لگی ہیں۔ ان کی ایک بڑی تعداد برلن، میونخ اور کولون جیسے بہت زیادہ آبادی والے شہروں میں دیکھی جا چکی ہے۔

یہ لومڑیاں اپنے شکار پر اکثر گروپوں کی شکل میں حملہ آور ہوتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں انہوں نے کولون کے چڑیا گھر میں ایک ایسی جگہ پر بھی حملہ کر دیا، جو پینگوئنز، فلیمنگوز اور بطخوں کے لئے مختص تھی اور جس کے ارد گرد بجلی کے ہلکے کرنٹ والی تاروں کی ایک حفاظتی باڑھ بھی لگی ہوئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی میں وسطی یورپ میں بھورے ریچھوں اور بھیڑیوں کی آبادی میں کمی کے باعث نہ صرف ایسی لومڑیوں کی آبادی میں اضافہ ہوا بلکہ وہ گوشت خور جانوروں کے طور پر اور بھی اہم ہو گئیں۔ اس کے علاوہ کئی یورپی ملکوں میں طویل عرصہ قبل باولے پن کی بیماری کا مکمل خاتمہ بھی ان لومڑیوں کی آبادی میں اضافے کی وجہ بنا کیونکہ طبی طور پر ایسے بہت سے جانوروں کی موت اس بیماری سے بھی ہو جاتی تھی۔

یورپ میں جرمنی اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں میں لومڑی کا شکار بھی بڑے شوق سے کیا جاتا ہے۔ صرف جرمنی کے گھنے جنگلاتی علاقوں میں گزشتہ سیزن میں عام شکاریوں نے چھ لاکھ سے زائد سرخ لومڑیوں کا شکار کیا جو قریب سترہ سو لومڑیاں روزانہ بنتی ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ قریب سارے ہی یورپی ملکوں میں جنگلی جانوروں کے شہری علاقوں میں شکار کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ اس لئے سرخ لومڑیاں اگر شہری علاقوں کا رخ کرنے لگی ہیں تو شکاری بھی مجبور ہیں کہ وہ شہری حدود میں ان کا شکار نہیں کر سکتے۔

برلن میں تحفط فطرت کی فاونڈیشن کے ہولگر وونے بیرگ کہتے ہیں کہ لومڑیوں کو اس خوراک میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، جو انسان کھاتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر توجہ ان پالتو یا گھروں میں پائے جانے والے چھوٹے بڑے جانوروں پر ہوتی ہے، جو انسانوں کے قرب و جوار میں ہوتے ہیں۔ ان جانوروں میں چوہے، بلیاں، کبوتر، خرگوش اور ایسے گھریلو جانور شامل ہوتے ہیں جو کسی چاردیواری یا باڑے میں رکھے جاتے ہیں۔

Flash Galerie Grönland

یہ لومڑیاں اپنے شکار پر اکثر گروپوں کی شکل میں حملہ آور ہوتی ہیں

جرمن شہر اشٹٹ گارٹ کے چڑیا گھر کی ایک خاتون اہلکار آنیا پاومین کہتی ہیں کہ ان کے چڑیا گھر میں لومڑیاں صرف ایک رات میں حملہ کر کے تیرہ فلیمنگوز کو کھا گئیں۔ اسی لئے اب عام جرمن شہریوں کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پالتو جانوروں کی حفاظت کے لئے انہیں زیاد سے زیادہ حد تک ایسی جگہوں سے دور رکھیں، جہاں شہری علاقوں میں آ جانے والی سرخ جنگلی لومڑیاں ان پر حملہ کر سکتی ہوں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM