1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لودھراں میں ضمنی انتخاب، پی ٹی آئی آگے

پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر لودھراں میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 154میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے جہانگیر ترین کو مسلم لیگ نون کے صدیق خان بلوچ پر واضح برتری حاصل ہے۔

Jemen Pakistanisches Parlament lehnt Beteilung an Luftschlägen ab

اسلام آباد میں پاکستان کی وفاقی پارلیمان کی عمارت

بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو اس حلقے کے 303 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 121 انتخابی مراکز سے موصولہ ابتدائی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار جہانگیر ترین کو سولہ ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل تھی۔

لودھراں کا یہ انتخابی حلقہ ان چار حلقوں میں شامل تھا جن کے نتائج کو مبینہ دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان انتخابی حلقوں میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی گونج تحریک انصاف کے دھرنوں میں تواتر کے ساتھ سنائی دیتی رہی تھی۔

اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سمیت 20 دیگر امیدواروں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا لیکن اصل مقابلہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون کے امیدواروں کے درمیان دیکھنے میں آیا۔ اس حلقے کے 303 پولنگ اسٹیشنوں پر رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد چار لاکھ سے زائد تھی۔

ساڑھے تین ہزار پولیس اہلکاروں اور دو ہزار فوجی جوانوں کی موجودگی میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں بدھ کے روز صبح آٹھ بجے شروع ہونے والا پولنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ بعض علاقوں میں پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکنوں میں تصادم اور جھڑپوں کے معمولی واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے ایک دوسرے پر انتخابی دھاندلیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ سینیئر تجزیہ نگار سلمان عابد کے مطابق اس انتخاب میں بھی الیکشن کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق پر پوری طرح عمل کرانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ان کے بقول اس انتخاب میں دولت کا بے دریغ استعمال اور حلقے سے باہر کے لوگوں کی غیر قانونی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آئیں۔

Pakistan Islamabad Imran Khan

اس الیکشن میں پی ٹی آئی نے جہانگیر ترین کو (تصویر میں بائیں طرف، عمران خان کے ساتھ) اپنا امیدوار بنایا تھا

سلمان عابد کے بقول جنوبی پنجاب کا علاقہ پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے لیکن جنوبی پنجاب کے کئی دوسرے علاقوں کی طرح اس الیکشن میں بھی پیپلز پارٹی کی موجودگی نہ ہونے کے برابر رہی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایک انتخابی حلقے کے نتیجے سے پارلیمنٹ میں ان پارٹیوں کی عددی طاقت پر بہت زیادہ فرق پڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے البتہ اس حلقے کے نتیجہ پراپیگنڈے کا بہت سامان لیے ہوئے ہو گا۔

ان کے بقول پاکستان تحریک انصاف کی فتح سے اس پارٹی کو یہ کہنے کا موقع مل سکتا ہے کہ اس نتیجے سے ان کے اس موقف کو تقویت ملی ہے کہ سن دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں اس حلقے میں دھاندلی کا ارتکاب کیا گیا تھا۔

DW.COM