1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لوئر سیکسنی کے انتخابات میں میرکل کی پارٹی کو شکست

جرمنی کی ریاست لوئر سیکسنی میں پندرہ اکتوبر کو منعقد ہوئے علاقائی انتخاب کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) نے میرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین پر معمولی برتری حاصل کر لی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے مختلف جائزوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار کے دن جرمن ریاست لوئر سیکسنی کے ریاستی انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹس نے اکثریت حاصل کر لی۔ اس نتیجے کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی پارٹی کرسچین ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ جائزوں کے مطابق ایس پی ڈی کو 37.5 فیصد جبکہ سی ڈی یو کو 35 فیصد ووٹ ملے۔

اے ایف ڈی سے مہاجرین کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟

ووٹرز کا اعتماد بحال کروں گی، میرکل کا عہد

جرمنی میں نئی حکومت کیسی ہو گی؟

مختلف براڈکاسٹرز کی طرف سے جاری کردہ ایگزٹ پولز کے مطابق ایس پی ڈی نے سی ڈی یو پر تقریباﹰ ڈھائی فیصد ووٹوں کی برتری حاصل کی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ایس پی ڈی کو 32.6 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی تھی جبکہ میرکل کی سیاسی پارٹی نے 36 فیصد ووٹروں کا اعتماد جیتا تھا۔

رواں برس اگست میں میرکل کو اس شمالی جرمن صوبے میں اپنی اہم ترین حریف جماعت پر بارہ پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی تاہم چوبیس ستمبر کے وفاقی انتخابات کے بعد وہاں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ چانسلر میرکل نے وفاقی سطح پر نئی حکومت سازی کے لیے ابھی حال ہی میں وفاقی پارلیمان میں موجود دیگر پارٹیوں کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کیا تھا۔

لوئر سیکسنی کے الیکشن میں اب تک کی صورت حال کے مطابق گرین پارٹی کو 8.5 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ماحول پسندوں کی اس پارٹی نے پچھلی مرتبہ ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر ہینوور میں حکومت بنائی تھی۔ اسی طرح فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) کو بھی سات فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق دائیں بازو کی مہاجرین اور اسلام مخالف پارٹی آلٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) بھی لوئر سیکسنی کی پارلیمان میں پہنچ گئی ہے۔ ڈی پی اے کے مطابق عوامیت پسند اے ایف ڈی کو 5.5 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ یوں یہ سیاسی جماعت اب جرمنی کے سولہ میں سے چودہ صوبوں کے پارلیمانی اداروں میں نمائندگی کی حامل ہو جائے گی۔

DW.COM