1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لوئر دیر میں تصادم، 23 عسکریت پسند ہلاک

پاکستانی سکیورٹی دستوں نے آج منگل کے روز شدت پسندوں کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں کم ازکم 23 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ ہلاکتیں شمال مغربی پاکستان میں سرچ آپریشن کے دوران باغیوں کے ساتھ تصادم کے نتیجے میں ہوئیں۔

default

پشاور کی ایک شاہراہ پر سکیورٹی پر مامور اہلکار

پشاور میں سکیورٹی حکام نے بتایا کہ یہ جھڑپیں تحصیل لوئر دیر کے ایک گاؤں کلپانی کے قرب وجوار میں ہوئیں، جہاں کار بموں اور راکٹوں سے مسلح چار بمبار حملہ آوروں نے اتور کے روز نیم فوجی دستوں کی ایک مقامی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا تھا۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس، فوجیوں اور نیم فوجی دستوں نے اس علاقے میں اتوار کے روز سرکاری دستوں پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کی تلاش کے لئے آپریشن شروع کر رکھا تھا کہ کلپانی نامی گاؤں اور اس کے نواح سے پچاس کے قریب مسلح باغیوں نے اس دستوں پر فائنرگ شروع کر دی۔ اس پر سرکاری دستوں نے شدت پسندوں کے حملے کا جواب دیا اور اطراف کے مابین شدید لڑائی شروع ہو گئی، جس میں سرکاری دعووں کے مطابق کم ازکم 23 عسکریت پسندوں مارے گئے۔

Angriff auf US-Konsulat in Peshawar Pakistan

خیبر پختونخوا میں ایک بم حملے کے بعد لی گئی ایک تصویر، فا‍ئل فوٹو

اس اعلیٰ فوجی افسر نے اے ایف پی کو یہ بھی بتایا کہ اس تصادم کے دوران درجنوں مسلح حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پاکستان میں سرکاری دستوں نے ضلع لوئر دیر اور اس سے ملحقہ وادیء سوات میں طالبان کے خلاف گزشتہ برس ایک وسیع تر آپریشن شروع کیا تھا، جس کی تکمیل کا بعد ازاں اعلان بھی کر دیا گیا تھا اور جس کے نتیجے میں سکیورٹی دستے اب اس علاقے پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہیں۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ باغیوں نے سرکاری دستوں کے اس آپریشن کی شدید انداز میں مزاحمت کی تھی اور اس علاقے میں ابھی بھی طالبان کی طرف سے سکیورٹی دستوں پر بار بار خونریز حملے دیکھنے میں آتے ہیں۔

وادیء سوات میں شدت پسند مذہبی عناصر کے ایک رہنما اور مقامی طالبان کے لیڈر مولانا فضل اللہ اور ان کے ہزاروں مسلح ساتھیوں نے دو سال تک اس علاقے کو اپنے زیر اثر رکھا تھا، جس دوران مقامی طور پر شریعت کے نفاذ کی کوشش بھی کی گئی تھی اور لڑکیوں کے سکول جانے کی مخالفت کرنے کے علاوہ سیاسی مخالفین کے سر بھی قلم کر دئے جاتے تھے۔

اس پر حکومت نے ایسے عناصر کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کر کے حالات میں بہتری کی کاوشیں بھی کی تھیں مگر ان کوششوں کی ناکامی کے بعد وہاں ایک بھر پور فوجی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

لوئر دیر کے گاؤں کلپانی میں عسکریت پسندوں کی سرکاری دستوں کے ساتھ تازہ خونریز جھڑپیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ وہاں طالبان عناصر کا ابھی تک مکمل خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔

مجموعی طور پر شمال مغربی پاکستان اور افغان سرحد سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں سرکاری دستوں کو طالبان عناصر اور مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں، تاہم ان علاقوں میں باغیوں کی سرکاری دستوں کے ساتھ خونریز جھڑپیں اب بھی تقریباﹰ ہر روز دیکھنے میں آتی ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM