1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لوئر دیر میں بم حملہ تین امریکی فوجیوں سمیت دس ہلاک

صوبہ سرحد کے ضلع لوئردیر میں سیکورٹی فورسزکے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں تین امریکی فوجیوں سمیت دس افرد ہلاک جبکہ مجموعی طور پر ایک سو پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

default

زخمی ہونے والوں میں دو امریکی فوجی ،سیکورٹی کے چھ اہلکار اور سو سے زیادہ طالبات شامل ہیں۔ یہ دھماکہ اس وقت کیا گیا جب امریکیوں سمیت ایک فوجی قافلہ میدان نامی علاقے سے تیمر گرہ جارہا تھا۔ جھاں امریکی امداد سےبننے والے سکول کا افتتاح ہونے والا تھا۔ اس دوران راستے میں حاجی آباد کوٹو کے قریب سڑک کے کنارے ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکہ ہوا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ مالاکند ڈویژن میں چار ماہ قبل شروع کئے گئے آپریشن کے نتیجے میں زیادہ ترعسکریت پسند ہلاک یا پھر گرفتار کئے گئے۔ تاہم وقتاً فوقتاً آج بھی خودکش حملے ، بم دھماکے اور سکولوں کو بارودی مواد سے تباہ کرنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ طالبان نے حالیہ واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم اس دھماکے نے پورے علاقے میں خوف وہراس پھیلادیا ہے۔

تیمر گرہ سے تعلق رکھنے والے عبدالکریم خان کہتے ہیں : ’’آج بھی لوگ بچیوں کو سکول بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔ فوجی آپریشن کی وجہ سے علاقے سے عسکریت پسند بھی نکل گئے اور امن بھی قائم ہوگیا ہے لیکن سول اداروں کی عملداری بحال نہ ہوسکیہے ۔ لوگ باہر نکلتے وقت عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں، ابھی تک عدالتیں بھی اس طرح کام شروع نہیں کر سکی ہیں ، جس طرح ہمارے لوگوں کی توقعات تھیں‘‘

مالاکن‍ڈ ڈویژن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے نئے خدشات سر اٹھا رہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے مالاکنڈ ڈویژن کو ایک مرتبہ پھر سے میدان جنگ بنانے کی کوشیش کی جارہی ہے۔ قبائلی امور کے ماہر اور پشاور یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے چیرمین ڈاکٹر الطاف اللہ خان سے جب ڈوئچے ویلے نے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ’’ان حالات میں یہ خدشات موجود ہیں کہ اس خطے میں ایک مرتبہ پھر سے حالات بگڑجائیں گے۔ ضلع دیر اور باجوڑ سرحدی علاقے ہیں جبکہ باجوڑ کی سرحد افغانستان سے ملتی ہیں اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں امریکی جاسوس طیاروں کی کاروائیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہوجائے۔‘‘

Symbolbild Pakistan Taliban

ماہرین نے ہاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

گزشتہ ایک ماہ سے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے مبینہ حملوں میں اضافے کے بعد ان علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں کی کاروئیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

رپورٹ: فریداللہ خان ، پشاور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM