1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

لنکا ڈھانے کا سنہری موقع ہے، مصباح الحق

پاکستان اورسری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریزکا پہلا ٹیسٹ منگل سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابو ظہبی میں شروع ہو رہا ہے۔

default

شہرہ آفاق آف اسپنر مرلی دھرن کی ریٹائرمنٹ کے بعد سےگز شتہ سولہ مہینوں میں سری لنکن کرکٹ ٹیم ایک بھی ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکی اور پاکستانی کپتان مصباح الحق بھی اسی لیےاس سیریزکو لنکا ڈھانے کا سنہری موقع خیال کرتے ہیں۔ ریڈیو ڈوئچےویلےکودیے گئے انٹرویومیں مصباح کا کہنا تھا کہ جب کوئی ٹیم میچ میں دس دس وکٹیں لینے والے مرلی جیسے باؤلرسے ہاتھ دھو بیٹھے تو اس کا نقصان تو ہوتا ہے۔

اب چمندا واس بھی نہیں ہیں اور نئے فاسٹ باؤلرز کی وجہ سے سری لنکا کو باؤلنگ میں مشکل ہوگی۔مصباح کے بقول پاکستان کی بیٹنگ تجربہ کار ہے اس لیے یہ سری لنکا کو ہرانے کا اچھا موقع ہے اور اس سال نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے بعد زمبابوے کو ہرانے سے، جو ہماری ساکھ بن رہی ہے، یہ سیریز جیت کر ہم اسےمزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

Pakistan Sport Cricket Umar Gul und Wahab Riaz

عمر گل اور وہاب ریاض ایک ساتھ

ٹیسٹ میچز کے مقامات میں ابو ظہبی کے علاوہ دبئی اورشارجہ بھی شامل ہیں اور وہاں کی وکٹیں ہمیشہ سے بیٹسمینوں کی جنت شمار ہوتی ہیں۔ گوکہ پاکستان کے خلاف آخری دورے میں لاہور اور کراچی ٹیسٹ میچوں میں ڈبل سینچریاں اسکور کرنے والے مڈل آرڈر بیٹسمین تھلن سمارا ویرا کو سری لنکن ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا ہے تاہم مہمان ٹیم کی بیٹنگ اب بھی مہیلا جے وردنے، سنگا کارا اور کپتان دلشان تلکارتنے کی موجودگی میں انتہائی طاقتور دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم مصباح کے مطابق ان پچز پر بیس وکٹیں لینا مشکل ضرور ہے مگر جس طرح عمر گل اور وہاب کی واپسی ہوئی ہے اور دونوں اسپنرز پہلے ہی اچھی باؤلنگ کر رہے ہیں۔ اگر فیلڈنگ نے ساتھ دیا تو اچھے نتائج بر آمد ہوں گے۔

مصباح الحق کے بقول آف سپنر سعید اجمل دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز میں فرق ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ سعید اجمل ہی ہمارے ٹرمپ کارڈ ہوں گے۔ گوکہ سری لنکنز مرلی دھرن کو کھیلنے کی وجہ سے آف سپن کھیلنے کے عادی ہیں مگر سعید اجمل، جس طرح دورہ ویسٹ انڈیز سے باؤلنگ کرتا ہوا آرہا ہے، وہ کسی بھی وقت دونوں ٹیموں میں فرق بن سکتا ہے۔ واضح رہے چونتیس سالہ سعید اجمل اپنے آخری تین ٹیسٹ میچوں میں چونتیس وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

Pakistan Sport Cricket Umar Gul und Wahab Riaz

کاؤنٹی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی بائیں ہاتھ کے تیز باؤلر وہاب ریاض کو بھی پاکستان ٹیم میں واپس لے آئی ہے

کپتان بننے کے بعد سے مصباح کی اپنی بیٹنگ کا جادو بھی سر چڑھ کر بولا ہے اور بطور کپتان تیرہ اننگز میں آٹھ نصف سینچریاں اور ایک سینچری اسکور کرنے کے نتیجے میں انہیں حال ہی میں معروف برطانوی جریدے دی کرکٹر نےغیر ملکی پلیئر آف دی ائیر قرار دیا ہے۔ اس بارے میں سینتیس سالہ مصباح کا کہنا تھا، ’’اس طرح اگر آپ کی کارکردگی کا اعتراف ہو تو ایک ایتھلیٹ کو زیادہ تحریک ملتی ہے۔ مجھے اس ایوارڈ کا سن کر اس لیے بھی خوشی ہوئی کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ہماری ریٹنگ بھی موجود ہے۔‘‘

دوسری جانب برطانوی کاؤنٹی کینٹ کی جانب سے کاؤنٹی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی بائیں ہاتھ کے تیز باؤلر وہاب ریاض کو بھی پاکستان ٹیم میں واپس لے آئی ہے۔ تاہم وہاب کی واپسی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب ایک برطانوی عدالت میں سابق پاکستانی کپتان سلمان بٹ اورفاسٹ باؤلر محمد آصف کے خلاف زیر سماعت اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں ان کا نام بھی شبہہ کے ساتھ سامنے آیا ہے ۔ اس بابت ڈوئچے ویلے کے سوال پر وہاب ریاض کا کہنا تھا، ’’لوگ باتیں کرتے ہیں مگر وہ ان کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ میں لوگوں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا بلکہ صرف اپنی کرکٹ اورمحنت کو اہمیت دیتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ خدا وند سے عزت کی دعا مانگی ہے کیونکہ وہی عزت دینے والا ہے۔‘‘

وہاب جنہیں دورہ زمبابوے کے لیے پاکستان سے ڈارپ کر دیا گیا تھا نےکہا، ’’میرے لیے سری لنکا جیسی ٹیم کے خلاف انٹر نیشنل کرکٹ میں واپسی چیلنجنگ ضرور ہے تاہم کامیابی چیلنج قبول کرنے سے ملتی ہے۔‘‘

وہاب کے بقول وہ مخالف ٹیم کے بڑے ناموں اورمشکل کنڈیشنز سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ماضی میں کھیلے گیے مجموعی طور پر سینتیس ٹیسٹ میچوں میں پاکستان نے پندرہ اور سری لنکا نے نو میں کامیابی حاصل کی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان یہ سیریز پاکستان میں کھیلی جانی تھی مگر دو برس پہلے لاہور میں سری لنکن کرکٹرز پر ہونے والے خونریز حملے کے بعد کپتان دلشان سمیت لنکن ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کے پاکستان آنے پر آمادہ نہ ہونے پر پی سی بی کو ان مقابلوں کی میزبانی کےلیے خلیج کے نیوٹرل مقام کا انتخاب کرنا پڑا ہے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM