1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن کے’نائٹ اسٹاکر‘ پر جنسی حملوں کا الزام ثابت، مجرم قرار

لندن میں گزشتہ 17 برسوں کے دوران ’نائٹ اسٹاکر‘ یعنی رات کو گھات لگا کر جنسی زیادتی کرنے والے کے نام سے جانے والے ایک سابق ٹیکسی ڈرائیور کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس شخص کا شکار زیادہ تر پینشین یافتہ بزرگ افراد تھے۔

default

برطانیہ کے وولِچ کراؤن کورٹ نے 53 سالہ ڈیلروائے گرانٹ کو18 بزرگ مرد و خواتین کواپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے 29 الزامات میں قصوروار پایا۔

پولیس کو خدشہ ہے کہ گرانٹ نے گزشتہ 17 برسوں کے دوران 500 کے قریب کمزور اور غیر محفوظ افراد پر جنسی حملے کیے ہیں ۔اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے گرانٹ کے ان جرائم کو انتہائی خوفناک اور انتہائی پریشان کن قرار دیا گیا ہے۔

Die Woche 43_09

ان جنسی تشدد کا شکار بزرگ پینشن یافتہ افراد تھے

پریس ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے گرانٹ پر 1992ء میں ایک 89 سالہ خاتون کو لندن میں اس کے گھرمیں زبردستی داخل ہو کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا قصور وار پایا۔

اس کے علاوہ گرانٹ کو 1998ء میں وارلنگھم کی 81 سالہ ایک خاتون پر بے رحمانہ جنسی حملہ کرنے کا مجرم بھی قرار دیا گیا۔

یاد رہے کہ سن 1992ء سے 2009ء کے درمیان لندن کے جنوبی علاقے سے تعلق رکھنے والے گرانٹ نے جنوبی لندن میں ، وارلنگھم، شرلی، بیکینھم، بروملی اور مغربی ڈولوچ سمیت چند دیگرعلاقوں میں کمزور مرد و خواتین پر جنسی حملے کیے۔ یہ تمام حملے متاثرہ افراد کے گھروں میں داخل ہو کر کیے گئے جو کبھی کبھی کئی گھنٹوں تک جاری رہے۔

Schwerhöriger Mann

جنسی حملوں کا شکار ان بزرگوں میں سے بعض، قوت سماعت یا قوت بینائی سے محروم بھی تھے

زیادتی کا شکار ہونے والے متعدد متاثرہ افراد کی عمریں 89 برس تک تھیں اور ان میں ے اکثر یا تو بینائی سے محروم تھے یا قوت سماعت سے۔ جبکہ کئی افراد پارکنسن اور الزائمر کی بیماری میں مبتلا تھے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ 2009ء میں اپنی گرفتاری کے بعد مجرم نے اپنے بیٹے اور سابق بیوی پر الزام عائد کیا کہ ان دونوں نے اسے ان جرائم میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ وہ خود بے قصور ہے۔

گرانٹ نے الزام عائد کیا کہ جائے واردات سے ملنے والے اس کے مادہ تولید کے نمونے دراصل اس کی بیوی نے 1977 میں اپنے پاس محفوظ کرلیے تھے، جو بعد میں جائے واردات پر رکھ دیے گئے، تاکہ اسے پھنسایا جاسکے۔ تاہم عدالت کی جانب سے مجرم کے ان دلائل کو رد کر دیا گیا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM