1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن ٹاور آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 58 ہو گئی

لندن میں گرین فیل ٹاور میں آتشزدگی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد اٹھاون تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ حکام کے مطابق لاپتہ افراد کے بارے میں اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

آج بروز ہفتہ 17 جون کو لندن پولیس کے سربراہ اسٹوارٹ کنڈی Stuart Cundy نے صحافیوں کو بتایا کہ لندن کے گرین فیل ٹاور میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی ممکنہ تعداد 58 تک پہنچ گئی ہے، ’’ہم انتہائی جانفشانی اور محنت کے بعد اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ وہ لوگ جو آتشزدگی کی رات گرین فیل ٹاور میں موجود تھے اور ابھی تک ان کا کوئی نشان نہیں ملا ہے اور ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ محفوظ یا ٹھیک ٹھاک ہیں۔‘‘

کنڈی کا مزید کہنا تھا، ’’ایسے 58 لوگ ہیں جن کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اُس رات گرین فیل ٹاور میں موجود تھے اور ابھی تک لاپتہ ہیں، میرا یہ قیاس ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ان 58 لوگوں میں سے 30 ایسے ہیں جن کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 16 لاشوں کو ملبے سے نکالا جا چکا ہے۔

لندن پولیس کے سربراہ نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے ہلاکتوں کی تعداد 58 سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو مگر یہ ممکن ہے کہ جس وقت اس ٹاور میں آگ لگی اُس وقت وہاں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہوں جن کے بارے میں لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ وہ وہاں تھے۔ اسی باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

UK Grenfell Tower in London (picture alliance/AP Photo/F. Augstein)

لندن ٹاور کہلانے والی اس 24 منزلہ عمارت میں آگ بدھ کی رات اس وقت لگی، جب اس عمارت کے کُل 120 رہائشی اپارٹمنٹس کے مکینوں کی اکثریت  سو رہی تھی

گرین فیل ٹاور یا عرف عام میں لندن ٹاور کہلانے والی اس 24 منزلہ عمارت میں آگ بدھ کی رات اس وقت لگی، جب اس عمارت کے کُل 120 رہائشی اپارٹمنٹس کے مکینوں کی اکثریت  سو رہی تھی۔

لندن کے علاقے نوٹنگ ہل کے قریب شمالی کَینسِنگٹن کے علاقے میں 1970ء کی دہائی میں تعمیر کردہ ایک بلند و بالا رہائشی عمارت میں یہ آگ پولیس کے مطابق سب سے اوپر والی منزل سے ایک فلور نیچے سے شروع ہوئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اس عمارت کے بالائی نصف حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس آتشزدگی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔