1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن میں ہنگامہ آرائی، املاک نذر آتش

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے شمالی علاقے ٹوٹینہام میں ہفتہ کی شب لوٹ مار اور ہنگامہ آرائی کا بازار گرم ہو گیا۔ یہ سلسلہ پولیس کے ہاتھوں ہونے والی ایک ہلاکت کے خلاف احتجاج کے بعد شروع ہوا۔

default

دراصل یہ سلسلہ ٹوٹینہام کے پولیس اسٹیشن کی جانب کیے گئے پرامن مارچ سے شروع ہوا۔ جمعرات کو پولیس کے ساتھ بظاہر فائرنگ کے تبادلے میں ٹیکسی میں سفر کرنے والا ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ یہ مارچ اسی ہلاکت کے خلاف احتجاج تھا۔ مرنے والے کی شناخت انتیس سالہ مارک ڈُگن کے طور پر کی گئی، جو چار بچوں کا باپ تھا۔

فائرنگ کے اس تبادلے میں ایک پولیس اہلکار کے بال بال بچنے کی اطلاع بھی ہے جبکہ پولیس کے ایک ریڈیو میں گولی پائی گئی۔

ہفتہ کو پولیس اسٹیشن کی جانب کیے گئے مارچ کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے، جس کے بعد پولیس ٹوٹینہام کے علاقے میں امن و امان بحال کرنے کی کوشش کر تی رہی۔

تاہم شرپسند عناصر نے پولیس کی گاڑیوں، ایک بس اور بعض عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیانات کے ذریعے کشیدگی کو ہوا دی گئی۔

London / Tottenham / Ausschreitungen

متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا

ہفتہ کی شب سکیورٹی فورسز مظاہرین کے علاوہ ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہیں جبکہ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں لندن کے شمالی علاقے کی سڑکوں پر دوڑتی رہیں۔

شرپسندوں نے ہائی روڈ پر دکانوں کے شیشے توڑ کر لوٹ مار مچائی۔ اے ایف پی کے مطابق اس علاقے میں لوگوں کو لوٹے گئے مال سے لدی شاپنگ کی ٹرالیاں لے جاتے دیکھا گیا۔ یہ ہنگامہ آرائی قریبی رہائشی علاقوں تک بھی پہنچی اور وہاں بھی بعض گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

حالیہ کچھ مہینوں میں لندن کے وسطی علاقوں میں طلبا اور ٹریڈ یونینوں کی جانب سے کیے گئے مظاہروں کو شدید ہوتے دیکھا گیا، تاہم مضافاتی علاقوں میں گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والی یہ بدترین ہنگامہ آرائی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس