1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن میں مشتبہ شخص گرفتار، چاقو برآمد

پولیس نے لندن میں پارلیمان کی عمارت کے نزدیک ایک کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرتے ہوئے چاقو برآمد کر لیے ہیں۔ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ زیر حراست لیا گیا یہ مشتبہ شخص دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی میں تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے برطانوی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ستائیس اپریل بروز جمعرات لندن کے اس حساس علاقے سے مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد محکمہ انسداد دہشت گردی نے کارروائی شروع کر دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مشتبہ شخص کی عمر ستائیس برس ہے۔

لندن حملے غالباً اسلام پسندانہ دہشت گردی تھی، برطانوی پولیس

لندن حملہ خالد مسعود نامی برطانوی شہری نے کیا

’’لندن حملہ آور کا آئی ایس یا القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘

پولیس کے مطابق اس کارروائی میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔ لندن کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ گرفتاری خفیہ معلومات ملنے کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

وائٹ ہال کے علاقے میں، جہاں سے مشتبہ شخص گرفتار کیا گیا ہے، وہ پارلیمان کے عمارت کے قریب ہی واقع ہے جبکہ وہاں کئی وزارتوں کے دفاتر بھی قائم ہیں۔ میٹرو پولیٹین پولیس نے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کارروائی کے دوران چاقو برآمد کیے گئے ہیں۔

اس کارروائی کے بعد پولیس نے کہا کہ شہریوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ مشتبہ شخص کو ساؤتھ لندن کے ایک پولیس تھانے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اے ایف پی نے موقع پر موجود اپنے نامہ نگار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے گرفتاری کے وقت تین چاقو زمین پر پڑے دیکھے جبکہ کچھ خبر رساں اداروں نے چاقوؤں کی تعداد دو بھی بتائی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق گرفتاری کے بعد فرانزک ماہرین فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے اپنی تفتیش شروع کر دی ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جہاں یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے، وہ مقام وزیر اعظم ہاؤس سے کچھ دور ہی واقع ہے۔ تاہم جب یہ کارروائی کی گئی، اس وقت وزیر اعظم ٹریزا مے گھر میں نہیں تھیں۔ مے نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اور سکیورٹی ادارے ہمیشہ کی طرح چوکس تھے۔ انہوں نے اس بروقت کارروائی پر محمکہ پولیس اور سکیورٹی اداروں کی تعریف بھی کی ہے۔

DW.COM