1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن میں مسجد کے قریب حملہ: ایک شخص ہلاک، دس زخمی

برطانوی دارالحکومت لندن کے شمالی حصے میں ایک مسجد کے قریب کیے گئے ایک وین حملے میں ایک شخص ہلاک اور دس دیگر زخمی ہو گئے۔ اڑتالیس سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ ایک مشتبہ دہشت گردانہ حملہ تھا۔

default

حملے میں استعمال کی گئی وین، جس کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا

لندن سے پیر انیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص نے، جو گاڑی چلا رہا تھا، اپنی کار آج پیر کو علی الصبح شمالی لندن کے علاقے فِنزبری پارک میں مسلمانوں کی ایک مسجد کے قریب راہگیروں پر چڑھا دی۔

یہ حملہ ایک شخص کی ہلاکت اور دس دیگر کے زخمی ہونے کا سبب بنا جبکہ پولیس نے بتایا کہ وہ اس واقعے کی ایک مشتبہ دہشت گردانہ حملے کے طور پر چھان بین کر رہی ہے۔ ملزم کو، جس کی عمر 48 برس بتائی گئی ہے، گرفتار کر کے احتیاطاﹰ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے تا کہ اس کی ذہنی صحت کا معائنہ کیا جا سکے۔

لندن حملہ آوروں میں سے دو کی شناخت ظاہر کر دی گئی

لندن حملہ، بارہ مشتبہ افراد گرفتار

مزید حملوں کا خدشہ، برطانیہ میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب لندن کے اس کثیرالنسلی آبادی والے علاقے میں بہت سے مسلمان نصف شب کے بعد نماز تراویح پڑھ کر مسجد سے واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ پولیس کے مطابق اس حملے کے بعد نمازیوں کے ایک ہجوم نے ملزم کو اس کی گاڑی سمیت اپنے گھیرے میں لے لیا تھا، جسے پولیس نے رات ایک بجے اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچ کر حراست میں لے لیا۔

Großbritannien London Fahrzeug rammt Moschee-Besucher (picture-alliance/AA/T. Salci)

فنزبری پارک کی مسجد لندن کی ایک مشہور اور کافی بڑی مسلم عبادت گاہ ہے

اس حملے کے بعد برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ یہ حملہ ایک مشتبہ دہشت گردانہ حملہ ہو سکتا ہے جبکہ مقامی مسلم آبادی نے اسے ایک ایسا جرم قرار دیا ہے، جس کا ارتکاب مسلمانوں سے نفرت کی وجہ سے کیا گیا۔

کیا ’برمنگھم‘ انتہا پسندوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے؟

لندن حملہ خالد مسعود نامی برطانوی شہری نے کیا

لندن حملے غالباً اسلام پسندانہ دہشت گردی تھی، برطانوی پولیس

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق زخمی ہونے والے دس افراد میں سے دو معمولی زخمی ہوئے تھے، جن کی موقع پر ہی مرہم پٹی کر دی گئی جبکہ باقی آٹھ افراد کے زخم  مقابلتاﹰ شدید تھے اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

برطانوی مسلمانوں کی قومی تنظیم مسلم کونسل آف بریٹن کے سیکرٹری جنرل ہارون خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حملے کے پیش نظر برطانیہ میں مسلم عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کرے۔ ہارون خان نے یہ بھی کہا کہ اس جرم کا ارتکاب مسلمانوں سے نفرت کی بنا پر کیا گیا، جو اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ برطانیہ میں اسلام سے خوف یا ’اسلاموفوبیا‘ کتنا زیادہ ہو چکا ہے۔

لندن کے میئر صادق خان نے، جو برطانوی دارالحکومت کے پہلے مسلمان میئر ہیں، کہا ہے کہ مسجدوں کی حفاظت کے لیے اضافی سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔

DW.COM