1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن میں سعودی شہزادے پر قتل کا جرم ثابت

سعودی شہزادے سعد بن عبدالعزیز بن ناصر السعود پر اپنے ملازم کے قتل کا الزام ثابت ہوگیا ہے۔ بتایا گیا ہےکہ السعود نے اپنے ملازم بندر عبدالعزیز کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے تشدد کیا، جس کے نتیجےمیں وہ ہلاک ہوا۔

default

CCTV کیمرے کی فوٹیج، السعود اپنے ملازم عبدالعزیز کو لگژری ہوٹل کی لفٹ میں تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے

برطانیہ کی ایک عدالت نے منگل کو بتایا کہ سعودی شہزادے سعود بن عبدالعزیز بن ناصر السعود پر قتل کا جرم ثابت ہو گیا ہے اور اسے سزا بدھ کے دن سنائی جائےگی۔ سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ السعود پر الزام تھا کہ اس نے اپنے ملازم عبدالعزیز کو جنسی عمل کے دوران جسمانی اذیت پہنچائی اور اس کا گلہ گھونٹ کر ہلاک کیا۔ عبدالعزیز کی لاش پندرہ فروری کو لندن کے ایک لگژری ہوٹل سے برآمد ہوئی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ اگرچہ السعود اپنے ذاتی حظ کے لئے اپنے ملازم کو اکثر ہی تشدد کا نشانہ بناتا رہتا تھا تاہم ویلنٹائن ڈے کی رات یعنی چودہ فروری کو ایک پارٹی سے واپسی کے بعد اس نے عبدالعزیز کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔

Bandar Abdulaziz

بندر عبداللہ عبدالعزیز پندرہ فروری کو قتل ہوئے

جرم ثابت ہونے کے بعد ممکنہ طور پر سعودی شہزادے کو عمر قید سنائی جا سکتی ہے۔ لندن کی اولڈ بیلی عدالت کی جیوری نے صرف پچانوے منٹ کی مشاورت کے بعد السعود کو مجرم قرار دیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ سے وابستہ ایک تحقیقاتی افسر نے عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ السعود نے اپنے ملازم کو پہلے بھی کئی مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ثابت ہو گیا ہے کہ برطانیہ میں قانون کا راج ہے اور یہاں کوئی بھی قانون سے ماوراء نہیں ہے۔

دفتر استغاثہ کے مطابق بتیس سالہ عبدالعزیز کی لاش پر متعدد زخم تھے، جبکہ اس کے گالوں پر دانٹ کاٹنے کے نشانات بھی ملے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ شواہد کافی ہیں کہ اس قتل کے پیچھے کہیں جنسی زیادتی کا عنصر بھی شامل رہا۔ جیوری کی طرف سےفیصلہ سناتے وقت السعود کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر اس کیس میں ہم جنس پرستی کا انکشاف کیا گیا تو سعودی عرب میں ان کا مؤکل کو سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے تاہم جیوری نے اس حوالے سے کوئی احتیاط نہ برتی۔

گواہان نے عدالت کو بتایا کہ عبدالعزیز ایک یتیم تھا، جس کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ منگل کو ہوئی عدالتی کارروائی کے دوران السعود کے والد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس