1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن مظاہرے: پرنس چارلس کی گاڑی پر حملہ

برطانوی جامعات کی فیسوں میں اضافے کے قانون پر بپھرے ہوئے مظاہرین نے ولی عہد شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ کامیلا پارکر کی گاڑی پر ہلہ بول دیا۔

default

لندن: مظاہرین اور پولیس

گزشتہ روز برطانوی پارلیمان میں معمولی فرق سے نیا قانون منظور ہوا ہے جس کے تحت یونیورسٹیوں کی ٹیوشن فیس لگ بھگ تین گنا بڑھ جائیں گی۔ اس متنازعہ قانون کے مخالفین نے پارلیمان، عدالت عظمیٰ اور محکمہ ء خزانہ کی عمارت کے سامنے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا۔

اسی اثناء میں شام کے وقت شاہی جوڑی شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ جو ایک تھیٹر شو دیکھنے کی جانب روانہ تھے وہ بھی ان مظاہرین کی زد میں آ گئے۔ حکومتی فیصلے پر ناراض و مشتعل مظاہرین نے مرکزی لندن میں ان کی گاڑی پر گھونسے اور لاتیں برسائیں اور پٹاخے چھوڑے۔ 62 سالہ چارلس اور ان کی 63 سالہ اہلیہ کامیلا محفوظ رہے۔ مظاہرین نے ان کی گاڑی پر رنگ کرنے والا سپرے بھی کیا اور شیشے کی بوتلیں بھی ماریں۔

Flash-Galerie Wahl in Großbritannien David Cameron

وزیر اعظم کیمرون نے شاہی جوڑے کی گاڑی پر حملے کو قابل افسوس قرار دیا ہے

عینی شاہدین کے مطابق شاہی جوڑے کی سلامتی پر مامور پولیس دستہ مظاہرین کے جتھے میں پھنس گیا یوں پرنس چارلس اور ان کی اہلیہ مظاہرین کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ برطانیہ میں شاہی خاندان کے خلاف اس طرز کا احتجاج غیر معمولی بات ہے۔

اس سے قبل 1994ء کے دوران آسٹریلیا میںایک طالب علم نے پرنس چارلس پر سٹارٹر پستول سے فائر کیا تھا تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔ 1974ء میں چارلس کی بہن شہزادی این کو اغوا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی جبکہ 1981ء میں ملکہ ایلزبتھ دوئم کے قتل کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے حالیہ واقعے کو حیران کن اور قابل افسوس قرار دیا۔ اس سے قبل کیمرون نے فیسوں کے اضافے کے قانون کی منظوری کا دفاع کیا۔ پارلیمان میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ برطانوی یونیوسٹیوں کی فیسیں امریکہ کے مقابلے میں اب بھی کم ہیں۔ وزیر اعظم کیمرون کا یہ بھی کہنا تھا کہ تعلیمی معیار کی بہتری اور جامعات کی فلاح و بہبود کے لئے درکار رقم کا بندوبست کرنا ضروری تھا۔

BdT Prinz Charles und Camilla in den USA

پرنس چارلس اور ان کی اہلیہ: فائل فوٹو

قانون کے حق میں 323 ارکان نے رائے دی جبکہ 302 نے اس کی مخالفت کی۔ 2012ء سے لاگو ہونے والے اس قانون کے تحت اب برطانوی جامعات میں بنیادی فیس 6 ہزار جبکہ زیادہ سے زیادہ 9 ہزار پاونڈز تک ہوجائے گی۔ موجودہ کم سے کم فیس کی حد تین ہزار 290 پاونڈز ہے۔

اس متنازعہ قانون کو مئی میں عام انتخابات کے بعد بننے والی اتحادی حکومت کا امتحان تصور کیا جارہا ہے۔ کیمرون کے اتحادی، نائب وزیر اعظم نک کلیگ کی جماعت نے انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ ٹیوشن فیس یکسر ختم کردیں گے۔ اسی کے سبب ان کے حامی زیادہ مشتعل دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس