1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’لندن فلیٹس قطر میں سرمایہ کاری سے لیے گئے‘

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف نے اپنے اثاثوں کے قانونی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں دستاویزی ثبوت جمع کروا دیے ہیں۔

پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستانی وزیراعظم اور مریم نواز شریف نے دستاویزی ثبوت میں دعویٰ کیا ہے کہ لندن میں اپارٹمنٹس خریدنے کے لیے رقم انہیں قطری شہزادے کی طرف سے دی گئی تھی۔ یہ دستاویزی ثبوت لگ بھگ چار سو صفحات پر مشتمل ہیں اور اس میں خرید و فروخت کی تمام تر تفصیلات دی گئی ہیں۔

نواز شریف کے بیٹے حسن اور حسین نواز جو بیرون ملک رہائش پذیر ہیں، آج وقت پر سپریم کورٹ میں متعلقہ دستاویزات جمع نہیں کروا پائے۔ پانچ رکنی سپریم کورٹ کے بینچ نے وزیراعظم کے بیٹوں کی جانب سے ثبوت جمع نہ کرانے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

پاکستانی انگریزی اخبار ڈان کے مطابق سپریم کورٹ کے بینچ نے فریقین کو حکم دیا کہ وہ اپنے دستاویزی ثبوت ایک دوسرے کو فراہم کریں اور کیس کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کر دی۔ بینچ نے کہا ہے کہ وہ اگلی سماعت کے دوران فیصلہ کرے گا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے لیے آیا کمیشن بنانا چاہیے یا نہیں۔

وزیراعظم کے اہل خانہ کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کے سامنے قطری شہزادے حماد بن جاسم بن جبر الثانی کا ایک خط پیش کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کے خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر پیسہ چوری نہیں کیا۔ اس خط کے مطابق شریف خاندان نے 1980 میں الثانی گروپ میں رئیل اسٹیٹ میں جو سرمایہ کاری کی تھی اس سے لندن میں بعد میں چار فلیٹ خریدے گئے تھے۔

ڈان اخبار کے مطابق اس خط میں قطری شہزادے کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ نواز شریف کے والد نے انیس سو اسی کی دہائی کے شروع میں دبئی سے اپنا کاروبار فروخت کر کے قطر کی الثانی فیملی کے رئیل اسٹیٹ بزنس میں بارہ ملین درہم کی سرمایہ کاری کی تھی۔ خط میں لکھا ہے کہ لندن کی پارک لین میں فلیٹ نمبر 17، 17 اے، 16 اور 16 اے جو شریف فیملی کی ملکیت ہیں دو آف شور کمپنیوں کے ناموں پر رجسٹرڈ تھے اور انہیں رئیل اسٹیٹ بزنس کے ذریعے خریدا گیا تھا۔ جس کے بعد سن 2006 میں اس کیس سے متعلق تمام اکاؤنٹس اور معاملات حسین نواز شریف اور الثانی فیملی کے مابین طے پا گئے تھے جس کے نتیجے میں الثانی فیملی نے کمپنی کے شیئرز حسین نواز شریف کے نمائندے کو دے دیے تھے۔

اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کے وکیل کو ہدایت دی کہ وہ عدالت کو تسلی بخش ثبوت فراہم کریں جو یہ ثابت کریں کہ  بیرون ملک پیسہ غیر قانونی طریقے سے نہیں بھجوایا گیا تھا۔

اس کیس کی گزشتہ سماعت میں حکومت نے عدالت کو ثبوت فراہم کرنے کے لیے پندرہ دن کا وقت مانگا تھا لیکن عدالت نے وزیراعظم کے وکیل کو سات روز کے اندر ثبوت فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید عدالت کو وزیراعظم کے اہل خانہ کے ’خلاف ثبوت‘ پہلے ہی فراہم کر چکے ہیں۔

کیس کی سماعت کے بعد سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ سپریم کورٹ، پاناما لیکس اور قطر ٹرینڈ کرتا رہا۔