1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’لندن دہشت گردانہ حملوں سے بچا جا سکتا تھا‘

برطانوی خفیہ ادارے MI5 کے چیف آف سٹاف نے اعتراف کیا ہے کہ سن 2005ء میں لندن میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث بمبار محمد صدیق خان کو ان کے ادارے نے ان حملوں سے چار ماہ قبل جزوی طور پر شناخت کر لیا تھا۔

default

Terror in London

ان واقعات میں پچاس سےے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

Witness G کے نام سے تحقیقاتی کمیشن کا سامنا کرنے والے اس افسر نے بتایا کہ خفیہ اداروں کو مارچ سن 2005ء میں یہ اطلاعات ملی تھیں کہ صدیق نامی ایک انتہاپسند یارک شائر میں رہتا ہے۔ اپنی زندگی کی تیسری دہائی گزارنے والے انتہاپسند صدیق کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس نے سن 2001ء میں پاکستان میں دو ماہ تک عسکریت پسندی کی تربیت حاصل کی تھی۔

اس خفیہ عہدیدار کے مطابق MI5 اور یارک شائر پولیس کو ملنے والی ان ابتدائی معلومات سے یہ واضح نہ ہو سکا کہ ’صدیق‘ کے نام سے جس انتہاپسند کی شناخت کی گئی تھی، وہ محمد صدیق خان تھا۔ اس حوالے سے محمد صدیق خان کو اس لیے نہ پکڑا نہ جا سکا کہ یارک شائر پولیس اسے صدیق کے نام سے تلاش کرتی رہی جبکہ اس کا آخری نام خان تھا۔ گو کہ خفیہ رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ صدیق کے Surnames مختلف ہیں۔

جولائی سن 2005ء میں محمد صدیق خان اور تین دیگر دہشت گردوں نے لندن میں تین انڈر گراؤنڈ ٹرینوں اور ایک بس کو نشانہ بنایا تھا۔ ان واقعات میں 52 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Großbritannien London Terror Autobombe entdeckt

یہ حملے جولائی سن 2005 میں ہوئے تھے

Witness G کے مطابق وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ خفیہ ادارے نے اس خبر پر بڑا رد عمل ظاہر کیوں نہیں کیا۔ تاہم درحقیقت اس حوالے سے کسی بھی طرح کی کارروائی کے راستے میں متعدد وجوہات حائل تھیں۔

Witness G نے اعتراف کرتے ہوئے کہا، ’’میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ ہم کچھ نہ کچھ ضرور کر سکتے تھے۔‘‘

اس افسر کا کہنا تھا کہ اس طرح خفیہ اہلکاروں کے پاس ’بڑا موقع‘ تھا کہ وہ اس منصوبے کو ناکام بنا دیں مگر اس کے لیے ان کی تنظیم کو بڑے پیمانے پر اقدامات کرنا پڑتے۔

’’اگر یہ شخص محمد صدیق خان کے نام سے شناخت کر لیا جاتا اور شامل تفتیش کر لیا جاتا، مگر میں پھر کہتا ہوں ’اگر‘، تو یہ ایک بڑا موقع تھا کہ اس منصوبے پر سے پردہ اٹھا دیا جاتا۔‘‘

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس