1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن حملے غالباً اسلام پسندانہ دہشت گردی تھی، برطانوی پولیس

لندن پولیس کے بقول گزشتہ روز شہر میں ہونے والی دہشت گردی میں ہلاکتوں کی اصل تعداد پانچ نہیں بلکہ چار ہے۔پولیس کے مطابق ان حملوں کے پیچھے غالباً ’اسلام پسندانہ دہشت گردی‘ کے محرکات کارفرما تھے۔

لندن پولیس کے سربراہ مارک راؤلی نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں شک ہے کہ یہ مذہبی بنیادوں پر کی جانے والی دہشت گردی تھی۔ ان کے بقول پولیس کوغالباً حملہ آور کی شناخت کا علم ہے۔ تاہم اس موقع پرانہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات عام نہیں کیں۔

لندن پولیس نے ان واقعات کے بعد برمنگھم سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے۔ اس دوران ابھی تک کل سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مارک راؤلی نے بتایا، ’’ہم نے چھ مقامات کی تلاشی لی اور سات افراد کو گرفتار کیا۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ ابھی تک کی تفتیش کے مطابق حملہ آور نے بین الاقوامی سطح پر جاری دہشت گردی سے متاثر ہو کر تنہا ہی یہ کارروائی کی۔‘‘ ان کے بقول فی الحال اس موقع پر مزید حملوں کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔

مارک  راؤلی  نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں مختلف قومیت کے لوگ شامل ہیں۔ ان کے بقول ایک پولیس اہلکار کے علاوہ ہلاک ہونے والی خاتون چالیس کے پیٹے میں تھیں اور  ہلاک ہونے والے مرد کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔ چوتھا ہلاک ہونے والا شخص حملہ آور خود تھا۔

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم ٹیریزا مے نے سلامتی سے متعلق وُزراء کے ایک اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ اس دوہرے حملے کے بعد دہشت گردی سے انتباہ کا درجہ نہیں بڑھایا جائے گا۔ آج کل برطانیہ میں دوسرے سب سے بڑے درجے کی وارننگ موجود ہے۔ اس دوران دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت کی جانب سے لندن واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز حملہ آور نے لندن کے ویسٹ منسٹر پُل پر اپنی کار بہت سے راہگیروں پر چڑھا دی تھی اور پھر برطانوی پارلیمان کی عمارت کی باڑ سے جا ٹکرایا تھا۔ اس کے فوراً بعد اس حملہ آور نے ایک چاقو سے ایک پولیس اہلکار پر حملہ کر دیا اور اُسے جان سے مار ڈالا۔ بعد ازاں پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic