1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن حملوں پر بین الاقوامی ردعمل

عالمی رہنماؤں کی جانب سے برطانوی دارالحکومت لندن میں گزشتہ شب ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل سمیت یورپ اور دنیا بھر کے رہنماؤں نے ان حملوں پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار کی صبح لندن حملوں پر اپنے ردعمل میں کہا کہ جرمنی اس موقع پر لندن کے رہنے والوں کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں لندن حملوں کا سن کر انتہائی افسوس ہوا۔ ’’ہم آج خوف اور دہشت کے سائے میں ہیں، جو ہر سرحد سے بالا ہے مگر اسے کے خلاف متحد اور پرعزم ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں اور پورے عزم کے ساتھ برطانیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ان حملوں کو ’بزدلانہ‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ لندن حملوں میں زخمی ہونے والوں میں دو فرانسیسی شہری بھی شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’فرانس دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔‘‘

Polizei in London (picture alliance/dpa/M.Dunham)

جائے واقعہ کی ناکہ بندی جاری ہے

لندن میں فرانسیسی ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں، جب کہ سیاحت کی غرض سے لندن جانے والے فرانسیسی شہریوں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہوتی ہے۔ رواں برس مارچ میں لندن ہی میں گاڑی کے ذریعے کیے گئے حملے میں بھی متعدد فرانسیسی شہری زخمی ہوئے تھے۔

یہ بات اہم ہے کہ فرانس بھی دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے، جہاں نومبر 2015ء میں پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے ہنگامی حالت نافذ ہے جب کہ اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ فرانس میں دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں۔

لندن حملے ایک ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب جمعرات کے روز برطانیہ میں عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں کنزرویٹیو پارٹی نے ان انتخابات کے سلسلے میں جاری اپنی انتخابی مہم اتوار کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا، یہ انتخابی مہم دوبارہ کب شروع ہو گی۔

یورپ کا دورہ کرنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی لندن حملوں پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک ’دھچکا‘ قرار دیا ہے۔

اپنے ایک مختصر بیان میں انہوں نے ان حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمی ہونے والوں کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب لندن حملوں کے فوری بعد اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے ہدایات نامے پر عمل درآمد نہایت ضروری ہے۔ ’’سلامتی کی بہتر سطح کے لیے ہمیں سفری پابندیوں پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔‘‘

اپنے ایک اور ٹوئٹر پیغام میں ٹرمپ نے کہا، ’’ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا آپ کی حفاظت کرے۔‘‘