1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن حملوں میں بن لادن کے کردار پر متضاد خبریں

امریکی حکومتی ماہرین کے مطابق اسامہ بن لادن برطانیہ میں سن دو ہزار پانچ میں ہونے والے حملوں سے آگاہ تھا اور یہی اس کی کامیاب ترین آخری کارروائی تھی۔

default

امریکی قومی سکیورٹی حکام کے مطابق ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے گھر سے حاصل ہونے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ بن لادن نہ صرف سات جولائی دو ہزار پانچ کو لندن میں ہونے والے حملوں سے آگاہ تھا، بلکہ 2006ء میں برطانیہ اور اس کے بعد امریکی ایئر لائن پر ہونے والے ناکام حملوں کے بارے میں پہلے ہی سے جانتا تھا۔

امریکی قومی سکیورٹی سے وابستہ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’’اسامہ القاعدہ کے ہر آپریشن کے بارے میں انتہائی تفصیل سے جانتا تھا۔ ہماری معلومات کے مطابق اسامہ القاعدہ کے تمام اہم تخریبی منصبوں سے آگاہ تھا۔‘‘

Nach dem Terroranschlag von London - das Wrack der U-Bahn

سات جولائی 2005ء کو ہونے والے بم دھماکوں میں 52 شہری جبکہ چار خود کش حملہ آور ہلاک ہوئے تھے

ان تمام تر دعوؤں کے باوجود بعض امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسے واضح ثبوت حاصل نہیں ملے، جن سے پتہ چلتا ہو کہ اسامہ بن لادن لندن دھماکوں میں ملوث تھا۔ ان کے مطابق اسامہ بن لادن کے بارے میں ابھی تک کے دعوے تجزیوں کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے کوئی ایک بھی ایسا ثبوت نہیں ملا، جس سے ثابت ہوتا ہو کہ اسامہ لندن حملوں کی منصوبہ بندی میں شامل تھا۔

اس کے برعکس ایک امریکی سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسامہ کو لندن دھماکوں کے بارے میں قبل از وقت پتہ تھا اور یہ دھماکہ کرنے والے دہشت گرد اس سے رابطے میں تھے۔ سات جولائی 2005ء کو ہونے والے بم دھماکوں میں 52 شہری جبکہ چار خود کش حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملے برطانوی انڈر گراؤنڈ ریلوے سسٹم اور بسوں پر کیے گئے تھے۔ دوسری جانب ان حملوں کی تفتیش میں شامل اہلکاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں حملے کرنے والے گروپ کے سربراہ محمد صدیق خ‍ان اور اس کے ایک ساتھی نے ملٹری ٹریننگ پاکستان میں حاصل کی تھی لیکن انہیں کوئی بھی ایسا ثبوت نہیں ملا، جس سے ان کا رابطہ اسامہ بن لادن سے ثابت ہوتا ہو۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM