1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن بم دھماکوں کا ایک سال

سات جولائی سن 2005ء کو برطانیہ ہی سے تعلق رکھنے والے چار مسلمان خود کُش حملہ آوروں نے دارالحکومت لندن کی زیرِ زمین ریل گاڑیوں اور ایک بس کو اپنا نشانہ بناتے ہوئے پچاس سے زیادہ انسانوں کو موت کی نیند سُلا دیا تھا۔ 700 سے زیادہ انسان زخمی ہو گئے تھے۔ آج سات جولائی جمعے کے روز پورے برطانیہ میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہوئے ایک سال پہلے آج ہی کے روز ہونے والے ہولناک بم دھماکوں کی یاد تازہ کی گئی۔

default

سوگ منانے والوں کی آنکھیں نَم تھیں، پولیس کے سپاہیوں نے احتراماً اپنے ہَیٹ سَر سے اُتار لئے اور لندن کا ٹریڈ مارک سمجھی جانے والی بسوں اور ٹیکسیوں نے بھی اِن حملوں کا شکار ہونے والوں کے احترام میں اپنی رفتار مدھم کرلی۔ آج ایک سال پورا ہونے کے موقع پر ایک بار پھر ویسے ہی حملوں کے ڈر سے لندن میں پولیس کے ہزاروں اضافی سپاہی تعینات کئے گئے تھے۔

نشریاتی ادارے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ یارڈ کے سربراہ Ian Blair نے کہا کہ ایک سال بعد بھی نئے حملوں کا خطرہ ویسے ہی موجود ہے، جیسے تب تھا۔ ابھی کل جمعرات کو ایک نئی ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی، جس میں ایک حملہ آور نے اپنی موت سے پہلے مزید حملوں کی دھمکی دی تھی۔ اِس ویڈیو سے یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ حملہ آوروں کے دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے قریبی روابط تھے۔

ملکہ الزبتھ نے ایڈنبرا کے کیتھیڈرل میں خاموشی کے وقفے میں شرکت کی جبکہ وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر لندن کے فائر بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر پہنچے ہوئے تھے۔ وہاں بلیئر نے کہا کہ اِن واقعات کا ایک سال پورا ہونا پوری قوم کو ایک جگہ اکٹھے ہونے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ بہت سے مسلم مراکز اور اداروں میں بھی کام اور کلاسیں موقوف کرتے ہوئے واقعے کی یاد تازہ کی گئی۔

لندن کے بشپ Richard Chartres نے آج اپنے خطاب میں کہا کہ گذشتہ سال کے واقعات بے انتہا نفرت سے عبارت ایک پُر تشدد کارروائی تھے اور اِسی لئے کسی بھی قسم کے عقیدے کے ساتھ جوڑتے ہوئے اُن کی شان نہیں بڑھائی جا سکتی۔

گذشتہ سال سات جولائی کے واقعات کا صحیح پس منظر ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔ القاعدہ کے ساتھ اِن چار حملہ آوروں کا تعلق کتنا گہرا تھا، اِس بارے میں کھلی تحقیقات کروانے کا مطالبہ لندن حکومت نے آج جمعے کے روز ایک بار پھر مسترد کر دیا۔

ڈوئچے وَیلے کے تبصرہ نگار کلاﺅس ڈاہمان نے بھی یہی سوال اُٹھایا ہے کہ کیا واقعی اِن حملوں کے پیچھے القاعدہ تنظیم کا ہاتھ تھا؟ اب تک جو تحقیقات ہوئیں، اُن کے دوران تیرہ ہزار افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، عوام اور دیگر ذرائع کی طرف سے ملنے والی 30 ہزار معلومات کی جانچ پڑتال کی گئی اور نگران کیمروں کا چَھ ہزار گھنٹوں پر مشتمل مواد غور اور احتیاط سے دیکھا گیا۔ اِس کے باوجود تفتیش کار اِسی نتیجے پر پہنچے کہ چاروں حملہ آوروں نے اپنی ہی مرضی سے اِن حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، اِن کے لئے مالی وسائل بھی اُنہوں نے خود ہی فراہم کئے اور پھر اِن حملوں کو عملی شکل بھی خود ہی دی۔

لیکن اُس ویڈیو کا کیاکیجئے، جو اِن حملوں کو ایک سال پورا ہونے سے ایک ہی روز پہلے یعنی کل جمعرات کو منظرِ عام پر آئی ہے۔ اِس ویڈیو میں چار میں سے ایک حملہ آور القاعدہ کی دوسری اہم ترین شخصیت ایمن الظواہری کے قریب بیٹھا نظر آ رہا ہے۔ تبصرہ نگار کے مطابق ایک بات واضح ہے کہ تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود دہشت گردی سے بچاﺅ کی کوئی سو فیصدی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

اِس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف وہ جنگ، جسے امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش عراق میں بھی اور خود اپنے ملک کے اندر بھی جیتنا چاہتے ہیں اور اِس کے لئے لوگوں پر نظر رکھنے کے غیر جمہوری ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہے ہیں، وہ کبھی بھی جیتی نہیں جا سکتی۔ دوسری طرف دہشت گرد بھی مغربی دُنیا کے خلاف اپنی جنگ نہیں جیت سکیں گے۔ اِس کا ثبوت یہ ہے کہ لندن بم دھماکوں کے باوجود برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کی عراق کے حوالے سے پالیسی میں ذرا سا بھی فرق نہیں آ سکا۔