1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

لندن اولمپکس کے لیے پاکستانی دستے کی تیاریوں میں رکاوٹیں

لندن اولمپکس کےلیے ہاکی وہ واحد کھیل ہے، جس میں پاکستان کوالیفائی کر چکا ہے جبکہ ایتھلیٹکس، شوٹنگ اور سوئمنگ میں وائلڈ کارڈ انٹری ملے گی۔

default

کوالیفائنگ راؤنڈز کے ذریعے پاکستانی ایتھلیٹس کی ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ کے ساتھ باکسنگ مقابلوں میں بھی شرکت کا قوی امکان ہے۔ اولمپکس مقابلے شروع ہونے میں ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ جانے کے باوجود کسی کھیل میں بھی پاکستان کی عملی تیاری نظر نہیں آرہی۔

ہاکی اولمپکس میں پاکستان کی ہمیشہ سے پہچان رہی ہے۔ پاکستان نے اب تک جو دس اولمپک میڈل جیتے ہیں، ان میں ناصرف آٹھ مرتبہ یہ کارنامہ ہاکی ٹیم نے انجام دیا بلکہ ملکی تاریخ کے تینوں اولمپک گولڈ میڈلز بھی قومی کھیل کے ہی مرہون منت رہے۔ مگر اب بدلے ہوئے بین القومی قوانین کے مطابق سبز کی بجائے نیلی آسٹروٹرف کی عدم فراہمی اور حکومتی کسلمندی نے پاکستانی ہاکی ٹیم کی اولمپکس کی تیاریوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے نئی آسٹروٹرف کی منظوری دیکر خوش آئند اقدام اٹھایا ہے مگر اب افسر شاہی کی سستی اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے، جس سے پاکستانی ٹیم کو اولمپکس کی تیاری کا مناسب موقع میسر نہیں آرہا۔

Olympiastadion 2012 London

لندن میں اولمپکس مقابلوں کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی جارہی ہیں

باجوہ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ لندن اولمپکس میں نیلی آسٹرو ٹرف پر پیلی گیند استعمال ہوگی، جس سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ٹیم کو زیادہ سے زیادہ پریکٹس کی ضرورت ہے، ’’ مگر ہم لاہور کی بجائے دوسرے شہروں میں کیمپ لگانے اور آنے جانے پر مجبور ہیں، جو اولمپک کی تیاریوں کے لیے نقصان دہ امر ہے۔‘‘

غور طلب بات یہ ہے کہ ہاکی اور کرکٹ کے علاوہ پاکستان میں دیگر تمام ٹریک اینڈ فیلڈ کھیلوں کی بقاء کا دار و مدار پاکستان اسپورٹس بورڈ کے فنڈز پر ہوتا ہے مگر حال ہی میں اختیارات کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی کے سلسلے میں وفاقی وزارت کھیل ختم کیے جانے سے بھی اولمپکس کی جانب پیشرفت کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔ وزرات کھیل کے تحلیل کے کیے جانے کے بعد سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو مختلف سپورٹس فیڈریشنز کے لیے حکومتی فنڈز کے اجراء میں مبینہ طور پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سے ملک میں ناصرف اولمپک کے لیے کھلاڑیوں کی تربیت کا عمل متاثر ہوا ہے بلکہ مختلف بڑے شہروں میں کھیلوں کی سہولیات سے متعلق پہلے سے جاری کئی منصوبوں پر بھی پانی پھرنے لگا ہے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ میں دو ڈائریکٹر جنرلز کی انوکھی تعیناتی سے جہاں معاملات کی سنگینی میں اضافہ ہوا وہیں رہی سہی کسر پاکستان اسپورٹس بورڈ کی پاکستان اولمپک ایسوی ایشن کے ساتھ محاز آرائی نے نکال کر رکھ دی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے سابق ڈائریکٹر جنرل ذاکر سید کا کہنا ہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ بطور ادارہ ناکام ہو رہا ہے۔ ان کے بقول دو ڈی جی مقرر ہونے سے ادارے کے اندر اختیارات کی کھینچا تانی اور سیاست عروج پر ہے۔

Pakistan Sport Hockey Stadion in Punjab

صوبہ پنجاب کے ایک ہاکی اسٹیڈیم کا منظر

اس بابت ڈویچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ایسوسی ایٹ سیکریٹری ادریس حیدر خواجہ کا کہنا تھا کہ سپورٹس بورڈ نے کھلاڑیوں کی ٹریننگ سے لیکر انہیں انفراسٹرکچر کی فراہمی تک کہیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کیا۔ بورڈ نے متعدد پراجیکٹس شروع کرکے ادھورے چھوڑ دیے۔ لاہور میں نشتر سپورٹس کمپلیکس میں پاکستان سپورٹس بورڈ کا انڈور جمنازیم کروڑوں روپے کی لاگت کے بعد اب بھی ادھورا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کی سرد مہری کی وجہ سے ہی پاکستان ریسلنگ ٹیم آسٹریلیا میں جاری دولت مشترکہ ریسلنگ چیمپیئن شپ میں شرکت سے محروم ہوچکی ہے۔ دولت مشترکہ ریسلنگ چیمپیئن شپ میں نہ بھجوائے جانے پر ریسلر اظہرعلی کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو ماہ تک ایونٹ کی تیاری میں خون پسینہ ایک کیا اس لیے آسٹریلیا نہ جانے کی خبر پر حد درجہ مایوس ہیں۔

پاکستان نے اپنی آزادی کے بعد سے 1980ء کے ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کرنے کے سوا ہراولمپکس مقابلے میں شرکت کی ہے۔ 1948ء کے لندن اولمپکس میں ہی پاکستان نے اپنا ڈیبیو کیا تھا اور اب اگر ’گھر کو گھر کے چراغ سے لگی آگ‘ نہ بجھائی گئی تو دوبارہ لندن پہنچ کر بھی ساڑھے تین درجن کے دستے کے ہاتھ کچھ نہ لگنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ: طارق سعید/ لاہور

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس