1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لندن انڈر گراؤنڈ پر دہشت گردانہ حملے، پانچ سال مکمل

برطانوی دارالحکومت لندن کے زیر زمین ریلوے نظام پر 2005ء میں کئے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کو بدھ کے روز ٹھیک پانچ سال ہو گئے۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور قریب 700 زخمی ہو گئے تھے۔

default

لندن کے آلڈگیٹ اسٹیشن کے قریب بم حملے کا نشانہ بننے والی ایک انڈرگراؤنڈ ٹرین

’’آج دہشت گردی لندن تک پہنچ گئی ہے، عین مصروفیت کے اوقات میں۔ ہدف وہ شہری تھے جو زیر زمین ریلوے اور بسیں استعمال کرتے ہیں۔‘‘ سات جولائی 2005ء کے روز لندن کی تین انڈر گراؤنڈ ٹرینوں میں آٹھ بج کر پچاس منٹ پر ہونے والے ان دھماکوں کی فوری رپورٹنگ BBC نے اسی طرح کی تھی۔ اس کے تقریبا ایک گھنٹے بعد ایک ڈبل ڈیکر بس میں بھی ایک بم دھماکہ ہوا تھا اور مجموعی طور پر ان حملوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک اور سات سو زخمی ہو گئے تھے۔

ان حملوں کے بعد زمین سے تقریبا 30 میٹر کی گہرائی پر بنی سرنگوں میں چلنے والی ٹرینوں اور انڈرگراؤنڈ اسٹیشنوں سے زخمیوں اور ہلاک شدگان کی لاشوں کو نکالنا بہت ہی صبر آزما مرحلہ ثابت ہوا تھا۔ ان حملوں میں زخمی ہونے والی ایک خاتون Gill Hicks بھی تھیں، جن کی عمر اس وقت 37 برس تھی۔

Jahrestag Bombenanschlag von London Trauer

خونریز بم ددھماکوں سے متاثرہ دو مسافر خواتین ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہوئے

انہیں لندن انڈرگراؤنڈ میں سفر کے دوران فوری طور پر یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ ان کے بالکل قریب ہی کوئی بم دھماکہ ہوا ہے۔ انہیں اس واقعے کی شدت کا اندازہ اگلے ہی لمحے ہو گیا تھا، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ شدید زخمی ہو چکی تھیں اور ان کے جسم سے خوں بہہ رہا تھا۔

Gill Hicks آج اپنے پانچ سال پہلے کے محسوسات کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: ’’میں جان گئی تھی کہ میں اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو چکی ہوں۔ میں نے فوری طور پر اپنی ٹانگوں کے باقی ماندہ حصوں کو اپنی اس شال کے ساتھ فوری طور پر باندھ دیا تھا، جو میں اپنے ساتھ لئے ہوئے تھی۔ مقصد خون کے بہاؤ کو کم سے کم کرنا تھا۔ ہم تقریبا ایک گھنٹے تک انڈرگراؤنڈ ٹرین کی ایک تباہ شدہ بوگی میں پھنسے رہے۔ اس کے بعد ہی امدادی کارکن ہم تک پہنچ سکے تھے۔‘‘

London Terroranschläge auf U-Bahn und Bussystem in London zerstörter Bus

پانچ سال قبل ایک ہلاکت خیز بم حملےکا نشانہ بننے والی ڈبل ڈیکر بس، فائل فوٹو

ان حملوں کے بعد کی جانے والی چھان بین سے ثابت ہو گیا تھا کہ اس دہشت گردی کے ذمہ دار چاروں حملہ آور خود بھی ان دھماکوں میں مارے گئے تھے۔ پھر چند ہی روز بعد انڈرگراؤنڈ اسٹیشنوں کے سکیورٹی کیمروں کے مدد سے ان کی شناخت بھی ہو گئی تھی۔ ان میں سے تین پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھے جو لیڈز اور اس کے نواحی علاقوں کے رہنے والے تھے۔ چوتھے حملہ آور کا تعلق جمیکا سےتھا۔

ان حملہ آوروں کی عمریں 18 اور 30 برس کے درمیان تھیں۔ ان کی طرف سے اتنے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے بہت خونریز واقعات سے پہلے کسی کو بھی کبھی ان کے بارے میں یہ احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ وہ کس حد تک انتہا پسندانہ مذہبی سوچ کے حامل تھے۔

پانچ سال پہلے کے ان حملوں کے بعد برطانیہ میں سکیورٹی سروسز کے شعبے میں واضع طور پر تشکیل نو دیکھنے میں آئی۔ آج برطانوی شہریوں میں ایسے کسی نئے حملے سے متعلق خوف بہت کم ہے۔ مگر ماہرین اس بات کو ابھی بھی خارج از امکان قرار نہیں دیتے کہ نوجوان اسلام پسند دہشت گروں کا کوئی بھی نیا چھوٹا یا بڑا گروپ دوبارہ ایسی کسی بھی دہشت گردی کی کوشش کر سکتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM