1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لمز کے ہوسٹل میں طالب علم کی ہلاکت منشیات سے ہوئی یا نہیں؟

پیر کے روز لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کا ایک طالب علم اپنے ہوسٹل میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ کیا واقعی پاکستان کی ایک اعلیٰ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں یہ ہلاکت منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہوئی ہے؟

پاکستانی صوبہٴ پنجاب کے شہر لاہور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) طاہر الرحمان کا مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ کراچی کے رہائشی اسٹوڈنٹ شاہ میر آصف باجوہ کی ہلاکت حرکت قلب بند ہونے یا پھر منشتیات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوئی ہے۔

تاہم اس حوالے  سے لمز یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے، ’’میڈیا پر ایسی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شاہ میر کی ہلاکت منشیات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوئی ہے۔ تاہم ابھی تک موت کی وجہ کا تعین ہونا باقی ہے۔ لمز انتظامیہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ تعلیمی اداروں اور معاشرے میں بڑے پیمانے پر منشیات کا استعمال ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے اور اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔‘‘

یونیورسٹی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لمز منشیات کی تمام اقسام کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ کیمپس میں منشیات اور غیر قانونی مواد کی دستیابی کو روکنے کے لیے باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی لمز انتظامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے 140 گرام ہیروئن پکڑی ہے۔

پاکستان: سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا نشہ چرس

گزشتہ شب جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’کیمپس کے داخلی اور خارجی راستوں پر ایس او پیز کے ساتھ ساتھ اچھے تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکار لمز میں جنرل سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں۔ سی سی ٹی وی پورے کیمپس میں ہیں۔ منشیات کے استعمال کے حوالے سے تمام رپورٹوں، چاہے وہ سکیورٹی عملے، کیمرے یا انفرادی شکایات سے ملی ہوں، کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔‘‘

دریں اثناء پاکستان کے نجی ٹیلی وژن چینل جیو نیوز اور میڈیا کے دیگر اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اکیس سالہ طالب علم کی ہلاکت منشیات کے زیادہ استعمال سے ہی ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والے طالب علم کے ساتھیوں نے بھی کہا ہے کہ شاہ میر منشیات کا عادی تھا۔

پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد سات ملین ہے اور نشے کی یہ عادت ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ ہلاکتوں کی وجہ بنتی ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس اس سال اب تک آٹھ سو ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی منشیات ضبط کر چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں جو نشہ آور اشیاء عام استعمال کی جاتی ہیں، ان میں شراب، ہیروئن، چرس، افیون، بھنگ، کیمیائی منشیات جیسے صمد بانڈ، شیشہ، نشہ آور ٹیکے اور سکون بخش ادویات سب سے نمایاں ہیں، جن کے استعمال کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

DW.COM