1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لشکر طیبہ: ’کراچی پراجیکٹ‘ اور پاک بھارت کشیدگی

بعض پاکستانی اور بھارتی عسکری و دفاعی امور کے ماہرین کے بقول اسلام آباد نہیں چاہتا کہ لشکر طیبہ کے خلاف سنجیدگی سے اقدامات کرے کیونکہ اس سے یہ تنظیم طالبان اور القاعدہ کے ساتھ مل کر زیادہ خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔

default

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نئی دہلی اسی باعث اسلام آباد سے شکایت کرتا ہے اور یہی نکتہ دونوں ممالک کے مابین امن عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس تنظیم پر نہ صرف ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے بلکہ اِسے بھارت کے اندر موجود حکومت مخالف عناصر کو بھی دہشت گرد کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

روئٹرز سے بات چیت میں سلامتی کے امور کے بھارتی ماہرین نے ’کراچی پراجیکٹ‘ نامی ایک ایسے مبینہ منصوبے کی جانب اشارہ کیا ہے، جس کے تحت لشکر طیبہ مبینہ طور پر بعض بھارتی مسلمانوں کو کراچی میں دہشت گردی کی تربیت فراہم کر رہی ہے۔

لشکرطیبہ اور بھارتی دہشتت گرد تنظیم ’انڈین مجاہدین‘ پر گہری نظر رکھنے والے بھارتی صحافی پراوین سوامی کے بقول حال ہی میں بنگلور اور پونے میں ہوئے بم دھماکے اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتے ہیں۔

بھارتی تجزیہ نگار انیمیش روئیل نے امریکہ کی ملٹری اکیڈمی کے جریدے میں لکھا ہے کہ بھارت میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے لشکر طیبہ مقامی طور پر دستیاب آتش گیر مواد کے استعمال کی ترغیب دیتی ہے تاکہ بات پاکستان تک نہ پہنچ سکے۔

Mumbai Attentat Zaki-ur-Rehman Lakhvi

لشکر طیبہ کے کمانڈر زکی الرحمان لکھوی، فائل فوٹو

روئٹرز سے بات چیت میں بعض دیگر بھارتی ماہرین نے لشکر طیبہ اور پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے باہمی روابط پر بھی بات کی۔

پاکستان کا البتہ مؤقف رہا ہے کہ بھارت اندرونی خلفشار سے پیدا شدہ دہشت گردی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر رہا ہے۔ اس کی مثال کے طور پر 2002 ء میں بھارتی ریاست گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل کے واقعے کی مثال دی جاتی ہے، جس سے نئی دہلی کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا اور پرتشدد ردعمل سامنے آیا۔

سلامتی کے امور کے پاکستانی ماہرین کے بقول اسلام آباد لشکر طیبہ پر زیادہ دباؤ اس لئے بھی نہیں ڈال رہا تاکہ بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت کا سدباب کیا جا سکے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ ء ڈیفنس و سٹریٹیجک سٹڈیز کے سربراہ رفعت حسین کے بقول پاکستانی فوج پہلے ہی قبائلی علاقوں میں بڑے محاذ کھولے بیٹھی ہے، ایسی صورتحال میں لشکر طیبہ کے خلاف مزید نئے محاذ کھولنے کو سودمند خیال نہیں کیا جا رہا۔ ان کے بقول لشکر طیبہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے مقابلے میں پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں نہیں کرتی، اس لئے بھی اس کے خلاف اقدامات کو ترجیح حاصل نہیں۔

اس عسکریت پسند تنظیم کے لئے پنجاب میں پایا جانے والا ہمدردری کا جذبہ بھی اسلام آباد حکومت کی راہ میں ایک سیاسی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

Bombenanschlag in Indien Bangalore

پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت اندرونی خلفشار سے پیدا شدہ دہشت گردی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر رہا ہے

امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قراردی جانے والی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ یہ بھارتی پروپیگنڈے کا نیتجہ ہے کہ ان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور انہیں دہشت گرد سمجھا جا رہا ہے۔

برطانوی روزنامے دی انڈیپینڈینٹ کوانٹرویو دیتے ہوئے حافظ سعید نے کہا کہ وہ کشمیر کی آزادی کے لئے لشکر طیبہ کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ ممبئی حملوں سمیت کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کے ذمہ دار نہیں۔

لشکر طیبہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تنظیم پاکستانی خفیہ ادارے ISI نے افغان جنگ کے دوران تیار کی تھی جبکہ اس نے کشمیر میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز 1993ء میں کیا۔ اس عسکری تنظیم کے پاس لگ بھگ تین ہزار مسلح جنگجو ہیں جبکہ اس سے وابستہ افرد کی تعداد 20 ہزار بتائی جاتی ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : امجد علی

DW.COM